LIVE
Loading Breaking News...

چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی عالمی گورننس میں اہم پیشرفت

News Image
چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی گورننس کو مؤثر طریقے سے فروغ دے رہا ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی سطح پر ماہرین جدید اے آئی ماڈلز کے خطرات اور فوائد پر غور کر رہے ہیں۔
بیجنگ میں جاری حالیہ رپورٹس کے مطابق چین مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی عالمی گورننس کے شعبے میں نہایت سنجیدہ اور جامع اقدامات اٹھا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے ایک حالیہ اداریے میں جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی ترقی کا موازنہ دو الگ راستوں یعنی ایٹمی ہتھیاروں اور ایٹمی توانائی سے کیا گیا ہے۔ اس تقابل کا مقصد اے آئی کی تباہ کن صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے پرامن اور انسان دوست فوائد کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ دنیا بھر کے پالیسی ساز اس بات پر متفق ہیں کہ اے آئی کو درست سمت دینے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ چین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی محض چند ممالک یا اداروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں تمام ترقی پذیر ممالک کی شمولیت بھی یقینی بنائی جائے۔ عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات سے کیسے نمٹا جائے اور اس کی لامحدود توانائی کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔ بین الاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بروقت مشترکہ ضابطہ اخلاق طے نہ کیا گیا تو اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان حالات میں چین کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں انسانی اقدار اور سلامتی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ چینی حکام اور ماہرین اس بات کے حامی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے لیے ایک منصفانہ، شفاف اور جامع عالمی گورننس کا نظام وضع کیا جائے جو تمام ممالک کے مفادات کا تحفظ کرے۔ اس ضمن میں مختلف بین الاقوامی فورمز پر بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ اے آئی کی حفاظت اور توازن کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے فوائد کو عام کیا جا سکے۔