Business
نفٹی کی مستقبل کی صورتحال اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی
معروف ماہرِ معاشیات و سرمائے وِنیت بولنجیکر کے مطابق کارپوریٹ آمدنی میں مثبت رجحان کی وجہ سے سال کے آخر تک نفٹی میں مزید ۷ سے ۸ فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ روایتی اور پرانی آئی ٹی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔
ممبئی: مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مجموعی اعداد و شمار نے توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس نے سرمایہ کاروں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے علاوہ اگر مجموعی کارپوریٹ آمدنی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً ۱۷ فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس مثبت رفتار کی قیادت بنیادی طور پر بینکنگ اور مالیاتی خدمات (بی ایف ایس آئی)، دھات سازی (میٹلز)، ٹیکنالوجی اور آٹوموبائل کے شعبوں نے کی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مالیاتی امور کے ماہر وِنیت بولنجیکر نے امید ظاہر کی ہے کہ معیاری اشاریے نفٹی میں سال کے اختتام تک مزید ۷ سے ۸ فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، ماہرین نے موجودہ مارکیٹ کے حالات کے تناظر میں سرمایہ کاروں کو کچھ مخصوص شعبوں میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ خاص طور پر روایتی اور پرانی آئی ٹی کمپنیوں کے حصص (Legacy IT Stocks) کے حوالے سے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ سرمایہ کار فی الحال ان سے دوری اختیار کریں۔ موجودہ عالمی اور تکنیکی تبدیلیوں کے دور میں روایتی آئی ٹی ماڈلز کو کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ان حصص میں متوقع منافع کی شرح محدود ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، بڑھوتری کی صلاحیت رکھنے والے دیگر شعبے سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش متبادل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مارکیٹ ریجن میں کمپنیوں کے بنیادی اصول (Fundamentals) انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جو کمپنیاں اپنی کارکردگی کو مسلسل بہتر بنا رہی ہیں اور بدلتے ہوئے معاشی حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، وہی سرمایہ کاروں کو طویل مدت میں بہترین منافع فراہم کر سکیں گی۔ لہٰذا، سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اندھا دھند سرمایہ کاری کرنے کے بجائے گہرائی سے مارکیٹ کا جائزہ لیں اور اپنے پورٹ فولیو کو متنوع (Diversify) بنائیں۔
آنے والے مہینوں میں معاشی پالیسیوں، عالمی منڈی کے رجحانات اور سہ ماہی نتائج مارکیٹ کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر معاشی اشاریے اسی رفتار سے مثبت رہے تو اسٹاک مارکیٹ کا مجموعی اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ اس پس منظر میں وِنیت بولنجیکر کی جانب سے دی گئی تجاویز سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی طے کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں تاکہ وہ خطرات کو کم سے کم کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کر سکیں۔