LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی مشرق میں اقتصادی بحران، تاجروں اور شہریوں کا حکومتی امداد کا مطالبہ

News Image
جنوبی مشرق کے رہائشیوں اور تاجروں نے بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ گاہکوں کی کم تعداد اور بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے ان کا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
جنوبی مشرقی علاقوں میں اقتصادی مشکلات نے تاجروں اور عام شہریوں کی کمر توڑ دی ہے، جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کاروباری لاگت میں اضافے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے کہ بازاروں میں گاہکوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے یومیہ فروخت انتہائی نچلی سطح پر آ گئی ہے۔ مہنگائی کے اس طوفان میں روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا عام آدمی کے لیے بھی ناممکن بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، کاروباری حضرات کو بلند ٹیکسوں، زیادہ لیویز اور یوٹیلیٹی بلوں کی مد میں بھاری اخراجات کا سامنا ہے، جو ان کے محدود منافع کو نگل رہے ہیں۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں کاروبار کو زندہ رکھنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے اور اگر حکومت نے فوری طور پر مداخلت نہ کی تو کئی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے بند ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر خصوصی مالیاتی گرانٹس فراہم کرے اور ٹیکسوں میں کمی کرے تاکہ معیشت کو سہارا مل سکے۔ دوسری جانب، عام رہائشیوں اور صارفین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے ان کی خرید و فروخت کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو اس معاشی دلدل سے نکالا جا سکے۔ ماہرینِ معاشیات نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر فوری ریلیف پیکیج کا اعلان نہ کیا گیا تو خطے میں سماجی و اقتصادی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔