World
امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت کی بقا کی وجوہات
امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے طویل عرصے سے عائدشدہ سخت ترین پابندیوں کے باوجود ایران کی معیشت مکمل طور پر بیٹھنے سے بچی ہوئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کروڑوں افراد اس معاشی بحران کے اثرات کو مسلسل برداشت کر رہے ہیں اور یہ رجحان مستقبل میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے ایران پر عشروں سے معاشی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر تاحال ایران کی معیشت مکمل طور پر منہدم نہیں ہو سکی ہے۔ بین الاقوامی معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود کروڑوں عام شہری ان سخت ترین معاشی دباؤ اور جھٹکوں کو مسلسل برداشت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے نظام حیات کسی نہ کسی طرح رواں دواں ہے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر کے معاشی ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کس طرح کوئی ملک اتنی شدید پابندیوں کے باوجود اپنا معاشی ڈھانچہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کی ایک بڑی وجہ ایران کا اندرونی پیداواری ڈھانچہ اور متبادل تجارتی راستے ہیں جو تہران حکومت نے برسوں کی تنہائی کے بعد استوار کیے ہیں۔ اگرچہ عام شہریوں کو مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، تاہم مقامی مارکیٹ اور خود کفالت کی پالیسیوں نے معیشت کو مکمل بیٹھنے سے بچایا ہوا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات اور خام تیل کی غیر قانونی یا متبادل ذرائع سے فروخت بھی اس معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ، حکومتی سطح پر ایسی حکمت عملی اپنائی گئی ہے جس کے تحت پابندیوں کے اثرات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عوامی سطح پر پائے جانے والے لچکدار رویے اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نے بھی اس عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی یہی رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے، اور ایران کی معیشت فی الحال کسی بڑے حادثے یا مکمل انہدام سے محفوظ دکھائی دیتی ہے، خواہ دباؤ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو۔