Technology
امریکی صدر کا نجی سائبر کمپنیوں کو مجرمانہ نیٹ ورکس ہیک کرنے کا اختیار
امریکی صدر نے ایک نئے قومی سلامتی میمورنڈم پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت منظور شدہ نجی سائبر سیکیورٹی کمپنیاں بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کر سکیں گی۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر سائبر کرائم اور مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانا ہے۔
امریکی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر سرگرم مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف ایک اہم اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے منظور شدہ نجی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کو سرکاری سرپرستی میں سائبر کارروائیاں کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی سائبر سیکیورٹی کے منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت نجی شعبے کی مہارت کو ریاستی سطح کے سلامتی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ایک اہم قومی سلامتی کے میمورنڈم پر دستخط کیے گئے ہیں جس میں باضابطہ طور پر اس پروگرام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
اس نئے پروگرام کے تحت صرف ان نجی سائبر سیکیورٹی فرموں کو کارروائیوں کی اجازت دی جائے گی جن کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی ہو اور جنہیں حکومتی سطح پر منظور کیا گیا ہو۔ یہ کمپنیاں حکومت کی نگرانی میں بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف سائبر آپریشنز انجام دیں گی تاکہ ان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سرگرمیوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس پالیسی کا مقصد روایتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو مزید وسیع کرنا اور مجرموں کے خلاف ڈیجیٹل محاذ پر سخت دباؤ قائم کرنا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے سائبر کرائم کے خلاف جنگ میں ایک نیا موڑ آئے گا، کیونکہ مجرمانہ تنظیمیں تیزی سے جدید ترین ٹیکنالوجی اور پیچیدہ ڈیجیٹل نیٹ ورکس کا استعمال کر رہی ہیں۔ نجی شعبے کی جدید ترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی مجرمانہ سرگرمیوں کا مؤثر طریقے سے تعاقب کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس پروگرام کے نفاذ اور اس کے نتائج کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔