LIVE
Loading Breaking News...

این آر آئیز کی بھارتی اسٹاک مارکیٹ اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری

News Image
غیر مقیم بھارتی افراد این آر ای اکاؤنٹ کے ذریعے بھارتی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے اکثر سوالات پوچھتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں سرمایہ کاری کے مکمل ضوابط اور طریقہ کار کا احاطہ کیا گیا ہے۔
بہت سے غیر مقیم بھارتی (این آر آئی) افراد بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت اور متنوع مارکیٹ سے جڑے رہنے کے لیے بھارتی حصص بازار اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایف ایم سی جی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں بہترین مواقع کی وجہ سے بیرون ملک مقیم افراد کی ایک بڑی تعداد اپنے آبائی وطن میں سرمائے کی ترسیل کو ترجیح دیتی ہے۔ تاہم، اس عمل کے لیے کچھ خاص قانونی اور مالیاتی ضابطہ کار کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔ عموماً، غیر مقیم افراد کے لیے ہندوستان میں سرمایہ کاری کے عمل کو منظم کرنے کے لیے دو طرح کے بینک اکاؤنٹس دستیاب ہوتے ہیں، جن میں این آر ای (NRE) اور این آر او (NRO) اکاؤنٹس سرفہرست ہیں۔ جب بات این آر ای اکاؤنٹ کی آتی ہے تو یہ ایک ایسا کھاتا ہے جس میں بیرون ملک سے کمائی گئی رقوم کو بھارتی روپے میں تبدیل کر کے رکھا جاتا ہے اور یہ مکمل طور پر ناقابل واپسی یا ریپٹری ایبل (repatriable) ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس اکاؤنٹ میں موجود اصل رقم اور اس پر حاصل ہونے والا منافع یا منافع کی ترسیل بلا روک ٹوک بیرون ملک منتقل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، ضوابط کے مطابق این آر ای اکاؤنٹ کے ذریعے براہ راست اسٹاک مارکیٹ یا ایکوئٹی شیئرز میں سرمایہ کاری کرنے کے طریقہ کار میں کچھ تکنیکی رکاوٹیں یا ضابطہ جاتی حدود ہو سکتی ہیں، کیونکہ روایتی طور پر براہ راست ایکوئٹی میں سرمایہ کاری کے لیے پورٹ فولیو انوسٹمنٹ اسکیم (PIS) کے تحت این آر او اکاؤنٹ کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود، بعض مخصوص شرائط کے تحت میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کے معاملے میں ضوابط قدرے مختلف اور آسان ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ کے وائی سی (KYC) کے تمام تقاضے پورے کیے گئے ہوں اور فنڈ ہاؤسز اس کی اجازت دیتے ہوں۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی رقم منتقل کرنے سے پہلے متعلقہ بینک، مالیاتی مشیر یا فنڈ ہاؤس کی پالیسیوں کا بغور مطالعہ کریں۔ چونکہ قوانین میں وقتاٰ فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (FEMA) اور ریزرو بینک آف انڈیا کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اپنے مالیاتی فیصلوں کو حتمی شکل دی جائے تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جا سکے۔