LIVE
Loading Breaking News...

آئی سی ای کریک ڈاؤن: فائرنگ کے واقعات اور نئے فنڈز پر تفصیلی جائزہ

News Image
امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے آپریشنز کے دوران فائرنگ سے ہلاکتوں کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ نئے فنڈز اور بھاری بھرکم بھرتیوں کے ساتھ کریک ڈاؤن میں توسیع کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ میں تارکین وطن کے خلاف متحرک ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے آپریشنز کے دائرہ کار میں تیزی سے وسعت آ رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس ادارے کے لیے نئے مالیاتی فنڈز کی منظوری اور بڑے پیمانے پر نئی بھرتیاں کی گئی ہیں تاکہ ملک بھر میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ تاہم اس بڑھتی ہوئی سرگرمی کے ساتھ ساتھ فائرنگ کے مہلک واقعات اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں، جن پر اب باقاعدہ جانچ پڑتال اور جائزہ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سکیورٹی اور سرحدی قوانین پر عمل درآمد کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں، جن کے تحت مختلف ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں نے انسانی حقوق کے کارکنوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور متاثرہ خاندان ان کارروائیوں کے دوران مبینہ زیادتیوں اور طاقت کے بے جا استعمال کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی فنڈنگ اور عملے میں اضافے کے بعد زمینی سطح پر قوانین کی پاسداری اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب، ادارے کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام آپریشنز ملکی قوانین کے دائرہ کار میں رہ کر کیے جا رہے ہیں اور اہلکار اپنی اور عوامی حفاظت کے لیے انتہائی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس پورے تناظر میں، انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کریک ڈاؤن کے دوران شفافیت کو یقینی بنائے تاکہ کسی بھی قسم کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا ناانصافی سے بچا جا سکے۔