Pakistan
پاکستان اور ناروے کا انسداد دہشت گردی اور غیر قانونی امیگریشن پر تعاون کا فیصلہ
پاکستان اور ناروے نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ملاقات کے دوران انسداد دہشت گردی اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد: پاکستان اور ناروے نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں میں بالخصوص انسداد دہشت گردی اور غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام جیسے اہم امور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانا اور دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی کے شعبے میں معلومات کا تبادلہ بہتر کرنا ہے۔
حالیہ سفارتی ملاقاتوں کے دوران اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ افغان سرزمین کو بعض عناصر کی جانب سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی قیادت نے ناروے کے اعلیٰ حکام کو ملکی سلامتی کے خدشات سے آگاہ کیا اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔ فریقین کا اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
علاوہ ازیں، ناروے اور پاکستان کے مابین غیر قانونی امیگریشن کے چعیلنج سے نمٹنے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ غیر قانونی ہجرت نہ صرف انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو فروغ دیتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے قانونی فریم ورک کے لیے بھی مسائل پیدا کرتی ہے۔ دونوں حکومتوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ اس قبیح فعل میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
ان اعلیٰ سطح کے رابطوں اور سفارتی مصروفیات سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ناروے اور پاکستان کے تعلقات میں مزید گرم جوشی آئے گی۔ دفاعی اور سیکیورٹی شعبوں کے علاوہ دیگر اہم شعبوں میں بھی باہمی تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کے مشترکہ اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔