LIVE
Loading Breaking News...

شام کی لبنان میں ممکنہ مداخلت اور اس کے نقصانات

News Image
امریکہ کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے شدید دباؤ کے باوجود، شامی حکومت کے اس میں کودنے کا امکان بہت کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی اقدام دمشق کے لیے اقتصادی اور سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکہ کی طرف سے جاری مسلسل دباؤ کے باوجود، شامی حکومت کے لیے یہ انتہائی غیر متوقع ہے کہ وہ لبنان میں کوئی عسکری یا سیاسی مداخلت کرے گی۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی قدم دمشق حکومت کے مفادات کے خلاف جائے گا اور اس کے لیے اس کی قیمت چکانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ شام پہلے ہی طویل عرصے سے خانہ جنگی اور شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے، اور ملک کی معیشت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کسی نئے اور بڑے تنازع کا بوجھ اٹھا سکے۔ دوسری جانب، امریکہ کی جانب سے دمشق پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ خطے میں حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے اور لبنان کی صورتحال میں مداخلت کرے۔ تاہم، شامی قیادت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اس نوعیت کا اقدام نہ صرف ملک کے اندرونی استحکام کو مکمل طور پر درہم برہم کر سکتا ہے بلکہ اس کے خطے کے دیگر ممالک بالخصوص ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے علاوہ، فوجی نقطہ نظر سے بھی شام اس وقت لبنان میں کسی قسم کی پیش قدمی کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ شامی فوج ملک کے مختلف حصوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور اندرونی سیکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے میں مصروف ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی بیرونی محاذ پر الجھنا دمشق کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ شامی حکام اس معاملے میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور امریکی دباؤ کے باوجود کسی قسم کی مہم جوئی سے گریز کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔