Politics
آزاد کشمیر احتجاج اور بیرونی ایجنڈا: عطا اللہ تارڑ کا اہم بیان
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جے اے سی کے مظاہرے پُرامن نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا عسکریت پسند عناصر کی کارروائیاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام نے عام انتخابات میں بھرپور شرکت کر کے ان عناصر کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ پر تشدد واقعات اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے مظاہرے قطعی طور پر پُرامن نہیں تھے، بلکہ ان کے پیچھے ایسے عسکریت پسند عناصر کارفرما ہیں جو کسی بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور جنہیں مبینہ طور پر بھارتی فنڈنگ حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں نہایت شفاف اور پُرامن ماحول میں انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے راولاکوٹ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں اکیلے ہی چھ لاکھ ووٹ ڈالے گئے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کشمیری عوام نے انتخابی عمل پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ جمہوریت اور ترقی کے راستے پر گامزن رہنا چاہتے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے انکشاف کیا کہ پرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کے قبضے سے خطرناک اور جدید ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے پہلے ہی یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ یہ عناصر پُرامن مظاہرین نہیں ہیں بلکہ ایک پرتشدد جتھہ ہیں جو خطے کے امن کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان آزاد کشمیر کی حکومت کے ساتھ مل کر ان عناصر کے خلاف سختی سے نمٹے گی اور کسی کو بھی خطے کے امن اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے اے سی کے تقریباً تمام مطالبات پہلے ہی منظور کیے جا چکے تھے اور وفاقی حکومت نے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا، لیکن اس کے باوجود ان کا مقصد عوام کے حقوق کے تحفظ کے بجائے انتشار پھیلانا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مظاہرین کے پاس سے امریکن ساختہ ایم فور رائفلز، کلاشنکوف اور سنائپر گنز برآمد ہوئی ہیں جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ اب اس احتجاج کو سیاسی یا حقوق کی تحریک نہیں سمجھا جائے گا بلکہ یہ ریاست کے خلاف ایک فتنہ ہے جس سے قانون کے مطابق پوری سختی سے نمٹا جائے گا۔ آزاد کشمیر کے سیکرٹری اطلاعات محمد راشد حنیف نے بھی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ان مظاہرین کی صفوں میں فتنہ الخوارج کے عناصر بھی موجود تھے جو کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کی رٹ کو ہر قیمت پر قائم رکھا جائے گا اور غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والے ان تمام پرتشدد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔