Business
این چندراسیکھرن کا استعفیٰ: ٹاٹا گروپ کے بڑے منصوبے خطرے میں
ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندراسیکھرن کے اچانک استعفیٰ نے گروپ کے مستقبل کے بڑے صنعتی اور تجارتی فیصلوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد سیمی کنڈکٹرز، آئی فونز کی مینوفیکچرنگ اور ایئر انڈیا کے حوالے سے لگائے گئے اربوں ڈالر کے داؤ خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندراسیکھرن کے غیر متوقع استعفیٰ کے اعلان نے ملکی اور بین الاقوامی کاروباری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان کا یہ اچانک فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹاٹا گروپ جدید ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور ایوی ایشن کے شعبوں میں تاریخ کی سب سے بڑی اور مہنگی سرمایہ کاری کرنے جا رہا تھا۔ اس پیش رفت نے ٹاٹا کے ان تمام اسٹریٹجک فیصلوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جو حالیہ برسوں میں گروپ کی سمت تبدیل کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ این چندراسیکھرن کی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے روایتی کاروباروں سے ہٹ کر چپس مینوفیکچرنگ اور ہائی ٹیک سیکٹرز میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سیمی کنڈکٹر پلانٹس اور ایپل کے لیے آئی فونز کی تیاری جیسے میگا پروجیکٹس براہ راست ان کی نگرانی میں آگے بڑھ رہے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی اچانک رخصتی سے ان منصوبوں کی رفتار سست یا شدید متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ اتنی بڑی سطح کے فیصلوں کے لیے ایک مضبوط اور طویل المدتی وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایئر انڈیا کی ری اسٹرکچرنگ اور اسے ایک منافع بخش بین الاقوامی ایئرلائن بنانے کا خواب بھی چندراسیکھرن کی ترجیحات میں سرفہرست تھا۔ ایوی ایشن کے اس بحالی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ٹاٹا کو مسلسل اور مستحکم قیادت کی اشد ضرورت تھی۔ اب جب کہ چیئرمین کا عہدہ خالی ہو رہا ہے، تو ایئر انڈیا کے لیے کیے جانے والے طویل المدتی وعدے اور معاہدے دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کاروباری ماہرین کا خیال ہے کہ اس خالی ہونے والے منصب کو پر کرنا ٹاٹا بورڈ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ گروپ کو بیک وقت کئی محاذوں پر سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ مارکیٹ میں اس خبر کے بعد سے ٹاٹا سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز میں بھی احتیاطی رجحان دیکھا جا رہا ہے، اور سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ٹاٹا بورڈ کو ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کرنا ہوگا جو نہ صرف گروپ کے روایتی اقدار کو برقرار رکھے بلکہ ان نئے اور پیچیدہ پراجیکٹس کو بھی کامیابی کی منزل تک پہنچا سکے جن کی بنیاد این چندراسیکھرن نے رکھی تھی۔