World
ایران جنگ اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کے خطرات
مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع کے دوران پانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو دفاعی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے خلیجی ریاستوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی حملوں کی صورت میں خطے کے وسائل کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
پانی اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اب امریکہ کے خلاف ایران کے اہم تدارک کے ذرائع میں شامل ہو چکا ہے۔ حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے خلیجی ریاستوں پر واضح کیا کہ اگر امریکی فوج نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کیے، تو ان کے اہم تنصیبات خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں پانی کی فراہمی اور توانائی کے ذخائر کے لیے ایک نئے اور سنگین خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔ جنگی حالات میں اس قسم کے بنیادی ڈھانچے کو بطور حربہ استعمال کرنا عام شہریوں کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
ماضی میں روایتی جنگیں فوجی اڈوں اور سرحدی علاقوں تک محدود ہوتی تھیں، مگر موجودہ دور میں سستے ڈرونز اور جدید میزائل ٹیکنالوجی کی دستیابی نے عسکری مساوات کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب کم خرچ ڈرونز کے ذریعے دور دراز اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا نسبتاً آسان ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ کشیدگی کے تناظر میں خلیجی ممالک کے آبی ذخائر اور ڈیسالینیشن پلانٹس بھی خدشات کی زد میں ہیں۔ پینے کے پانی کی سپلائی اور بجلی گھروں پر انحصار کرنے والی یہ ریاستیں اس وقت شدید تزویراتی دباؤ کا شکار ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات اور سیکیورٹی کے ماہرین نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اگر خلیج فارس کے خطے میں تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کروڑوں عام شہری بھی اس کا خمیازہ بھگتیں گے۔ پانی کے وسائل کی بندش یا تباہی سے پیدا ہونے والا انسانی بحران خطے میں طویل المدتی عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔
حالات کی اس مخدوش نوعیت کے پیش نظر خطے کے ممالک اور عالمی طاقتیں سفارتی سطح پر سرگرم ہو گئی ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو عام انسانوں کی زندگی کو براہ راست متاثر کریں۔ پانی جیسی بنیادی ضرورت کو جنگی اور سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنانا نہ صرف خطے کے امن کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔