LIVE
Loading Breaking News...

اے جے کے انتخابات: ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں تلخ کلامی اور الزامات کا سلسلہ شروع

News Image
آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ مریم نواز نے پیپلز پارٹی کو شکست تسلیم کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ بلاول بھٹو کی جماعت نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
مرکز میں برسرِ اقتدار اتحادی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد کھل کر آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج آنے کے بعد دونوں جماعتوں کی طرف سے ایک دوسرے پر شدید تنقید اور الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے میرپور ڈویژن کی تیرہ میں سے نو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جس پر ن لیگ نے اسے اپنی شاندار فتح قرار دیا ہے۔ انتخابی عمل کے دوران جھگڑوں، کشیدگی اور مبینہ دھاندلی کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں ن لیگ کی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ جمہوریت کی روح کے مطابق اپنی شکست کو تسلیم کرے۔ انہوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاست نہیں بلکہ عوام اپنے فیصلوں کا خود اختیار رکھتے ہیں، اور جب گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی جیتی تھی تو ن لیگ نے اسے خوش آمدید کہا تھا۔ مریم نواز نے پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس نہ تو کوئی واضح بیانیہ تھا اور نہ ہی آزاد کشمیر کے عوام کے لیے کوئی ترقیاتی پروگرام۔ انہوں نے سندھ کی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سترہ سال اقتدار میں رہنے کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ میں کوئی ایسا منصوبہ نہیں دکھا سکی جو قابلِ تقلید ہو، اور عوام اب باشعور ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ بھی یاد دلایا کہ انتخابات سے قبل آزاد کشمیر میں کوئی نگران سیٹ اپ نہیں تھا بلکہ پچھلے ایک سال سے خود پیپلز پارٹی ہی وہاں اقتدار میں تھی، اس لیے شکست پر دھاندلی کا شور مچانے کے بجائے اپنی خراب گورنردار اور کارکردگی پر غور کرنا چاہیے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور دیگر رہنماؤں نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے الزامات کو غیر جمہوری قرار دیا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ شام چھ بجے تک سب کچھ ٹھیک تھا اور کوئی شکایت نہیں کی گئی تھی، لیکن جیسے ہی نتائج خلافِ توقع آئے تو دھاندلی کا واویلا شروع کر دیا گیا۔ انہوں نے بھی سندھ اور پنجاب کی ترقی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے ترقی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور مسلم لیگ ن کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کشیدگی سے مرکز میں قائم اتحادی حکومت پر بھی دباؤ بڑھنے کا اندیشہ ہے جبکہ آزاد کشمیر کے آئندہ مراحل کے انتخابات کے لیے بھی سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔