Technology
پروٹن ایماس اور جیلی کا تعلق: پرو-نیٹ کی وضاحت سامنے آ گئی
پرو-نیٹ کے اعلیٰ حکام نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ کے دوران پروٹن ایماس الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے واضح جوابات دیے ہیں۔ کمپنی نے ان تمام تاثرات کو رد کیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ یہ گاڑیاں محض ری بیجڈ ماڈلز ہیں۔
پرو-نیٹ کی چیف برانڈنگ آفیسر صلوات محمد یوسف اور پروڈکٹ مارکیٹنگ اسسٹنٹ مینیجر ڈیوڈ تیاہ نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو کے دوران پروٹن ایماس الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں اور تنقید کا کھل کر جواب دیا ہے۔ اس پوڈ کاسٹ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ پروٹن ایماس کے زیرِ اہتمام ریکارڈ کیا گیا تھا، جس میں کمپنی کے نمائندوں نے صارفین کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی۔
گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا اور آٹوموبائل حلقوں میں یہ بحث گرم تھی کہ آیا پروٹن ایماس واقعی ایک قومی کار ہے یا یہ صرف چینی کمپنی جیلی (Geely) کے ماڈلز کو نئے نام اور لوگو کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس تنقید کے جواب میں پرو-نیٹ کے حکام نے وضاحت کی کہ جدید آٹوموبائل انڈسٹری میں عالمی اشتراک اور پلیٹ فارمز کا تبادلہ ایک عام اور ناگزیر عمل بن چکا ہے، جس کا مقصد صارفین کو بہترین اور جدید ترین ٹیکنالوجی کم لاگت میں فراہم کرنا ہے۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ پروٹن ایماس کی تیاری میں ملکی انجینئرنگ، ڈیزائن اور مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو بھرپور طریقے سے مدنظر رکھا گیا ہے۔ جیلی کے ساتھ شراکت داری کو محض ری بیجنگ قرار دینا حقائق کے منافی ہے، کیونکہ اس اشتراک کے نتیجے میں مقامی آٹوموبائل انڈسٹری کو جدید ای وی (EV) ٹیکنالوجی تک رسائی ملی ہے جو مستقبل کے پائیدار سفر کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
پرو-نیٹ کے مطابق، اس نوعیت کے الزامات کے باوجود صارفین کی جانب سے پروٹن ایماس کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ کمپنی کا عزم ہے کہ وہ پاکستان اور خطے میں الیکٹرک گاڑیوں کے کلچر کو فروغ دے گی اور جدید ترین فیچرز سے آراستہ گاڑیاں عوام تک پہنچاتی رہے گی تاکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔