LIVE
Loading Breaking News...

جنریٹیو اے آئی سرمایہ کاری: سی ایف اوز کی قلیل مدتی توقعات

News Image
چیف فنانشل افسرز اب جنریٹیو مصنوعی ذہانت سے منافع کے حصول کے لیے طویل انتظار کے بجائے قلیل مدتی فوائد پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سروے کے مطابق تقریباً انتالیس فیصد سی ایف اوز کو اگلے ایک سے دو سال میں مثبت مالیاتی نتائج کی توقع ہے۔
کاروبار اور مالیاتی دنیا میں جنریٹیو مصنوعی ذہانت یعنی جنریٹیو اے آئی کے حوالے سے رجحانات میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ اب چیف فنانشل افسرز اس ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے منافع کے لیے طویل المدتی تاریخوں پر تکیہ کرنے کے بجائے قلیل مدتی فوائد پر غور کر رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 39.1 فیصد سی ایف اوز یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں ایک سے دو سال کے اندر اندر اس ٹیکنالوجی سے بہت زیادہ مثبت مالیاتی نتائج اور منافع ملنا شروع ہو جائے گا۔ اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری ادارے اب اے آئی کو صرف ایک تجرباتی ٹول کے طور پر نہیں بلکہ ایک موثر اور تیزی سے منافع بخش اثاثہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔دوسری جانب کاروباری رہنماؤں کے درمیان اس حوالے سے آراء منقسم بھی دکھائی دیتی ہیں۔ اعداد و شمار سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ تئیس فیصد سے زائد یعنی تقریباً 26.1 فیصد سی ایف اوز کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مکمل سرمایہ کاری کا منافع حاصل کرنے میں چھ سال یا اس سے زیادہ کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔ یہ تفریق اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مختلف صنعتیں اور ادارے اپنی نوعیت، ڈیٹا کی دستیابی اور ڈیجیٹل تیاری کے لحاظ سے جنریٹیو اے آئی کو مختلف انداز میں اپنا رہے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر قلیل مدتی توقعات رکھنے والے افسران کی تعداد میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں اس ٹیکنالوجی کی افادیت پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کمپنیاں جو جنریٹیو اے آئی کو اپنے کاروباری نظام میں بہتر انداز میں ڈھال لیں گی، وہ مارکیٹ میں سب سے آگے ہوں گی۔ سی ایف اوز کی جانب سے اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی اور اس سے جلد منافع کی امید اس بات کی دلیل ہے کہ اب کارپوریٹ سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی رفتار تیز تر ہو چکی ہے۔ کمپنیاں اپنے اخراجات اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں اے آئی کو کلیدی اہمیت دے رہی ہیں تاکہ وہ اپنے حریفوں پر سبقت حاصل کر سکیں۔