Technology
مانٹریئل پولیس کا اے آئی سرویلنس کا استعمال، رازداری کے مسائل
مانٹریئل پولیس شہر بھر میں گاڑیوں اور افراد کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹولز کا نیٹ ورک خاموشی سے وسعت دے رہی ہے۔ اس اقدام سے عوامی شفافیت اور شہریوں کے رازداری کے حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
کینیڈا کے شہر مانٹریئل میں پولیس کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نگرانی کے آلات اور سسٹمز کے خاموش پھیلاؤ نے شہریوں اور ماہرینِ قانون کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ پولیس کی جانب سے شہر بھر میں گاڑیوں اور افراد کی آمدورفت کو ٹریک کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس پر عوامی شفافیت اور رازداری کے بنیادی حقوق کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے عوام کی نجی زندگی میں مداخلت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور پولیس کو ضرورت سے زیادہ اختیارات مل جاتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، مانٹریئل پولیس ہائی پاورڈ کیمروں اور ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز کے ذریعے ایک ایسا وسیع نیٹ ورک تیار کر رہی ہے جو شہریوں کی نقل و حرکت کا تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے۔ اس عمل میں سب سے بڑی تشویش اس بات کی ہے کہ یہ سب کچھ شہریوں کی رضامندی اور موثر پارلیمانی یا عوامی نگرانی کے بغیر ہو رہا ہے۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں اور پرائیویسی کے علمبرداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اس حوالے سے مکمل شفافیت سے کام لے اور بتائے کہ کون سا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے اور اسے کہاں محفوظ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، پولیس حکام کا موقف ہے کہ یہ جدید ٹولز شہر میں جرائم کی شرح کو کم کرنے، مجرموں کا سراغ لگانے اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید تکنیکی مدد حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم، شہری حقوق کی تنظیمیں اس دلائل سے مطمئن نظر نہیں آتیں اور ان کا ماننا ہے کہ اس قسم کی بے لگام نگرانی جمہوری معاشروں کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے اور اس سے شہریوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
اس صورتحال نے کینیڈا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سکیورٹی کے نام پر شہریوں کی نجی زندگی میں اس حد تک مداخلت کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کر کے سخت ضابطے اور قوانین بنانا چاہئیں تاکہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور شہریوں کے پرائیویسی کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔