LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئی براؤن فیلڈ ریفائننگ پالیسی منظور، چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع

News Image
حکومت نے ملک کی پٹرولیم ریفائنریز کو جدید بنانے کے لیے چھ سالہ تعطل کے بعد براؤن فیلڈ ریفائننگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے جس سے پٹرولیم مصنوعات کے معیار میں بہتری آئے گی۔
اسلام آباد: تقریباً چھ سال کے طویل تعطل کے بعد حکومتِ پاکستان نے بالآخر براؤن فیلڈ ریفائننگ پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جس کا مقصد ملک کی پٹرولیم ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت اس پالیسی کی منظوری دی گئی جس پر تقریباً 6 ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس ریگولیٹری فریم ورک کا بنیادی مقصد موجودہ آئل ریفائنریز کو اپ گریڈ کرنا، ان کے آپریشنز کو جدید بنانا اور ان کی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ نئی پالیسی میں سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے خصوصی ضمانتیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ مشینری کی درآمد کے لیے ٹیکس مراعات اور غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے قومی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آف شور اور آن شور اسٹوریج کی صلاحیت کو بھی بڑھایا جائے گا۔ نئی قانون سازی کے تحت یہ پالیسی تمام سابقہ ریفائننگ پالیسیوں کی جگہ لے گی۔ براؤن فیلڈ پالیسی کے نفاذ سے ملک کی پانچوں بڑی ریفائنریز اپنے پیداواری معیار اور مقدار کو بہتر بنا سکیں گی۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں موٹر اسپرٹ (پٹرول) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا جبکہ فرنس آئل کی پیداوار میں کمی واقع ہوگی۔ اعداد و شمار کے مطابق پٹرول کی مجموعی پیداوار موجودہ 10,700 ٹن یومیہ سے بڑھ کر 18,400 ٹن یومیہ تک پہنچ جائے گی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار 21,240 ٹن سے بڑھ کر 29,520 ٹن یومیہ ہو جائے گی، جبکہ فرنس آئل کی پیداوار 15,417 ٹن سے کم ہو کر 5,714 ٹن یومیہ رہ جائے گی۔ تمام ریفائنریز کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پلانٹس کو اپ گریڈ کریں تاکہ یورو فائیو معیارات پر پورا اترنے والا ماحول دوست ایندھن تیار کیا جا سکے۔ حکومت نے ریفائنریز کو یہ اجازت بھی دی ہے کہ وہ اوگرا سے لائسنس یافتہ کسی بھی آئل مارکیٹنگ کمپنی کو اپنی مصنوعات فروخت کر سکیں اور ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد اضافی پٹرولیم مصنوعات برآمد بھی کی جا سکیں گی۔ اس پالیسی کے تحت پٹرول اور ڈیزل کی درآمد پر کم از کم 10 فیصد کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹی سات سال کے لیے نافذ رہے گی جبکہ ریفائنریز کو اپ گریڈیشن کے معاہدے کے تحت دس فیصد ٹیرف پروٹیکشن بھی دی جائے گی۔ پیٹرولیم ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے بعد یورو فائیو کے نفاذ کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس سے ملک میں ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور معیاری ایندھن کی فراہمی یقینی ہوگی۔