LIVE
Loading Breaking News...

ایکس نے فار یو فیڈ کا الگورتھم اور مرئیت کا نیا ٹول جاری کر دیا

News Image
مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) نے اپنے 'فار یو' فیڈ کے ریکنگ اور فلٹرنگ الگورتھم کو عوام کے لیے کھول دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک نیا فیچر بھی پیش کیا گیا ہے جس سے اہل صارفین اپنی پوسٹس کی مرئیت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
سماجی رابطے کی مقبول ویب سائٹ ایکس (جسے پہلے ٹویٹر کے نام سے جانا جاتا تھا) نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنے 'فار یو' فیڈ کے پیچھے کارفرما الگورتھم کو پبلک کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ پلیٹ فارم پر کون سی پوسٹس کو ترجیح دی جاتی ہے، کون سی فلٹر کی جاتی ہیں اور کس طرح مواد کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ اس سے پلیٹ فارم پر شفافیت میں اضافہ ہوگا اور صارفین بہتر طور پر جان سکیں گے کہ ان کا مواد کس طرح ناظرین تک پہنچ رہا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت ایکس نے ایک خصوصی ٹول بھی متعارف کرایا ہے جو اہل صارفین کو یہ جانچنے کی سہولت فراہم کرتا ہے کہ آیا ان کے اکاؤنٹس یا مخصوص پوسٹس پر کوئی ایسے لیبلز موجود ہیں جو ان کی مرئیت یا رسائی کو محدود کر رہے ہیں۔ ماضی میں صارفین اس بات کی شکایت کرتے رہے ہیں کہ ان کی رسائی کوپوشیدہ طور پر کم کیا جاتا ہے، جسے شیڈو بیننگ بھی کہا جاتا ہے۔ اب اس نئے ٹول کے ذریعے صارفین کو اس بارے میں مزید معلومات اور وضاحت مل سکے گی کہ ان کے اکاؤنٹس کی کارکردگی پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایکس کے اس فیصلے کو سراہا ہے کیونکہ اس سے پلیٹ فارم کے اندرونی فیصلوں اور ضوابط میں شفافیت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس سے قبل بھی کمپنی نے اپنے سورس کوڈ کے کچھ حصوں کو پبلک کیا تھا، تاہم اس بار 'فار یو' فیڈ کی رینکنگ اور زیبلٹی ٹولز پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پلیٹ فارم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شفافیت پر مبنی یہ اقدامات صارفین کے ساتھ اعتماد بحال کرنے اور کمیونٹی کو بااختیار بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ ان نئے ٹولز اور الگورتھم کے عوامی ہونے سے نہ صرف عام صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ محققین اور ڈویلپرز کو بھی سوشل میڈیا کے اثرات اور مواد کی ترویج کے طریقوں کا مطالعہ کرنے کا موقع ملے گا۔ ایکس کی جانب سے اس عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے آئندہ بھی اس طرح کی مزید رپورٹس اور اپ ڈیٹس جاری کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ پلیٹ فارم کو سب کے لیے زیادہ منصفانہ اور شفاف بنایا جا سکے۔