LIVE
Loading Breaking News...

میساچیوسٹس قتل کیس: نوعمر ملزم اور چیٹ جی پی ٹی کا تنازع

News Image
امریکہ کی ریاست میساچیوسٹس میں ایک سترہ سالہ نوجوان کو اپنی ماں اور چھوٹے بھائی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے اس ہولناک واردات سے قبل مصنوعی ذہانت کے ٹول چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا تھا۔
امریکہ کی ریاست میساچیوسٹس سے ایک انتہائی ہولناک اور چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک سترہ سالہ نوجوان کو اپنی ہی ماں اور کم عمر بھائی کے بہیمانہ قتل کے الزام میں باقاعدہ طور پر مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اس مقدمے نے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے ایک نئی اور سنگین بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ تفتیشی حکام اور استغاثہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ ملزم نے اس واردات کو انجام دینے سے پہلے کے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے مشہور چیٹ بوٹ 'چیٹ جی پی ٹی' کا استعمال کیا تھا۔اس معاملے کی تفتیش کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نوعمر لڑکے نے مبینہ طور پر حملے کی منصوبہ بندی اور دیگر تفصیلات کے حصول کے لیے اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی مدد حاصل کی تھی۔ استغاثہ کے وکلاء نے عدالت میں اس حوالے سے شواہد پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ آیا ملزم نے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا تھا یا نہیں۔ یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب عدالت میں اس دل دہلا دینے والے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو رہا ہے اور عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔دوسری جانب اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے حفاظتی پروٹوکولز، کاؤنسلنگ اور نوعمر بچوں کی ڈیجیٹل رسائی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے طاقتور اے آئی سسٹمز کی نگرانی انتہائی ضروری ہے تاکہ ایسے المناک واقعات کو روکا جا سکے جو کم عمر افراد کی ذہنی حالت اور جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا نتیجہ بنتے ہیں۔ عدالت میں اس کیس کی آئندہ سماعت کے دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں، جبکہ قانونی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس مقدمے میں ڈیجیٹل شواہد کا قانونی استعمال کس نوعیت کا ہوگا۔