LIVE
Loading Breaking News...

توت عنخ آمون کا مصری نیلا رنگ اور نقلی فن پاروں کی شناخت

News Image
مصر کے فرعون توت عنخ آمون کے مقبرے سے 3300 سال قبل ملنے والا دنیا کا پہلا مصنوعی رنگ 'مصری نیلا' اب جدید ماہرینِ آثار قدیمہ کے لیے جعلی اور نقلی فن پاروں کو پہچاننے میں مدد دے رہا ہے۔ یہ رنگ اپنی غیر معمولی کیمیائی ساخت کی وجہ سے آج بھی محفوظ ہے اور ایک سنگل فوٹوگراف کے ذریعے قدیم اور جدید رنگوں میں واضح فرق کر سکتا ہے۔
سن 1922 میں جب ہاورڈ کارٹر کی ٹیم نے فرعون توت عنخ آمون کے مقبرے سے ایک مہر بند المرمر یعنی الاباسٹر کا جار اٹھایا تو اس کے اندر موجود پینٹ کے رنگین پگمنٹس تین ہزار تین سو سال گزرنے کے باوجود حیرت انگیز طور پر تروتازہ اور روشن پائے گئے۔ مقبرے کی دیواروں پر استعمال ہونے والے اس منفرد نیلے رنگ کی پائیداری کا راز کیلشیم کاپر سلیکیٹ میں پوشیدہ تھا، جو کہ دنیا کا سب سے پہلا مصنوعی رنگ یا پگمنٹ مانا جاتا ہے۔ اس کی کیمیائی پائیداری اتنی زیادہ ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اس کے اندر کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اب جدید دور کے ماہرینِ آثار قدیمہ اور کنزرویٹرز اس قدیم دریافت کو ایک بالکل نئے انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔ مصری نیلے رنگ کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ نادیدہ نیئر انفراریڈ یعنی قریب سے انفراریڈ شعاعیں خارج کرتا ہے۔ اس مدہم اور پراسرار چمک کی بدولت آج کے سائنسدانوں اور ماہرین کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ محض ایک عام فوٹوگراف کی مدد سے اصلی قدیم پینٹنگز اور جدید دور کے جعل سازوں کی تیار کردہ نقلی پینٹنگز کے درمیان واضح اور یقینی فرق محسوس کر سکیں۔ آرٹ کی دنیا میں جعلسازی ایک طویل عرصے سے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں ماہرین کے لیے صدیوں پرانے فن پاروں کی اصلیت ثابت کرنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم، مصری نیلے رنگ کی اس انیق خصوصیت نے عجائب گھروں اور تاریخی نوادرات کے محافظوں کو ایک طاقتور سائنسی ہتھیار فراہم کر دیا ہے۔ کیمیائی تجزیے اور انفراریڈ فوٹوگرافی کے امتزاج سے اب جعلسازوں کے لیے کسی بھی قدیم فن پارے کی نقل تیار کرنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ جدید مواد اس قدیم مصنوعی رنگ کی خصوصیات کی نقل کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ سائنسی پیش رفت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قدیم مصری تہذیب کے ماہرینِ کیمیا کا علم اپنے دور سے کتنا آگے تھا۔ انہوں نے جس سائنسی مہارت کے ساتھ اس مصنوعی رنگ کو تخلیق کیا تھا، وہ نہ صرف اس وقت کے شاہی مقبروں اور فن تعمیر کو سجانے کے کام آیا بلکہ آج اکیسویں صدی میں بھی یہ تاریخی ورثے کے تحفظ اور جعلسازی کے خلاف جنگ میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ تاریخ اور سائنس کا یہ انوکھا ملاپ آنے والے وقتوں میں مزید کئی قدیم رازوں سے پردہ اٹھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔