National
پاکستان میں دیت کی رقم بڑھا کر 19 ملین روپے سے زائد مقرر
وفاقی وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے دیت کی کم از کم رقم ایک کروڑ 93 لاکھ روپے سے زائد مقرر کر دی ہے۔ دیت کی یہ نئی قیمت چاندی کے نرخوں میں ریکارڈ اضافے اور پاکستان تعزیراتِ پاکستان کے دفعہ 323 کے تحت طے کی گئی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے چاندی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے پیشِ نظر مالی سال 2026-27 کے لیے دیت کی مالیت میں تقریبا 97 فیصد کا ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفیکیشن کے مطابق دیت کی نئی رقم 19 لاکھ 35 ہزار 239 روپے یعنی ایک کروڑ ترانوے لاکھ باون ہزار تین سو نوے روپے مقرر کی گئی ہے۔ تعزیراتِ پاکستان (PPC) 1860 کے تحت دیت وہ مالی معاوضہ ہے جو عدالت کے حکم پر قاتل کی جانب سے مقتول کے ورثاء کو ادا کیا جاتا ہے۔ یہ رقم عام طور پر 30,630 گرام چاندی کی مالیت کے مساوی ہوتی ہے۔ اس نوٹیفیکیشن کے بعد دیت کی یہ نئی قیمت مالی سال 2025-26 کے مقابلے میں 97 فیصد زیادہ ہے، جہاں گزشتہ مالی سال یہ رقم 98 لاکھ 28 ہزار 670 روپے تھی۔ چاندی کے عالمی اور ملکی نرخوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ مالی سال 2023-24 میں دیت کی مالیت 60 لاکھ 57 ہزار 902 روپے تھی، جس میں اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں 56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 323 کے تحت عدالت اسلامی احکامات، قرآن و سنت اور مجرم و ورثاء کی مالی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے دیت کا فیصلہ کرتی ہے، تاہم یہ رقم 30,630 گرام چاندی کی مالیت سے کم نہیں ہو سکتی۔ اس قانون کے تحت وفاقی حکومت ہر سال یکم جولائی یا کسی بھی مناسب تاریخ کو سرکاری گزٹ میں نوٹیفیکیشن کے ذریعے چاندی کی قیمت کا اعلان کرتی ہے، جس کی بنیاد پر پورے مالی سال کے لیے دیت کا تعین ہوتا ہے۔ اس سے قبل جولائی 2025 میں سینیٹ میں ایک ترمیم بھی تجویز کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ دیت کی کم از کم مقدار کو 30,630 گرام چاندی سے تبدیل کر کے 2,000 گرام سونا یا مجرم کے کل اثاثوں کا ایک چوتھائی حصہ مقرر کیا جائے، تاہم موجودہ نوٹیفیکیشن تاحال چاندی کے وزن کی بنیاد پر ہی جاری کیا گیا ہے۔ اس نئے فیصلے سے ملک بھر میں قانونی اور عدلیتی امور پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ دیت کے مقدمات میں اب ادائیگی اسی نئی بڑھی ہوئی شرح کے مطابق کی جائے گی۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہِ راست دیت کی مقدار کو متاثر کرتا ہے اور مہنگائی کے اس دور میں ورثاء کے لیے مالی تلافی کا یہ نظام اسلامی قوانین کے عین مطابق چلایا جا رہا ہے۔