LIVE
Loading Breaking News...

ٹریزور کے 14 ہزار صارفین کا ڈیٹا شپ مونْک سکیورٹی بریچ میں چوری

News Image
مقبول ہارڈویئر والٹ برانڈ ٹریزور کے چودہ ہزار صارفین کا حساس شپنگ ڈیٹا تھرڈ پارٹی لاجسٹکس فراہم کنندہ شپ مونْک پر ہونے والے ایک سکیورٹی حملے میں چوری ہو گیا۔ ہیکرز نے صارفین کے نام، پتے، ای میل اور فون نمبرز تک رسائی حاصل کر لی ہے۔
ڈیجیٹل اثاثہ جات کے تحفظ کے لیے مشہور کمپنی ٹریزور کے صارفین کو اس وقت ایک بڑے سکیورٹی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے تھرڈ پارٹی لاجسٹکس پارٹنر شپ مونْک (ShipMonk) میں ڈیٹا کی سنگین خلاف ورزی کا واقعہ پیش آیا۔ اس سائبر حملے کے نتیجے میں دنیا بھر سے ٹریزور کے تقریباً چودہ ہزار صارفین کا ذاتی اور حساس شپنگ ڈیٹا ہیکرز کے ہاتھ لگ گیا ہے، جس سے صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، اس حملے کے دوران ہیکرز نے صارفین کی جو معلومات چوری کی ہیں ان میں ان کے مکمل نام، رہائشی پتے، ای میل ایڈریسز اور فون نمبرز شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ اس واقعے میں صارفین کے فنڈز یا ان کے کرپٹو کرنسی والٹس کی پرائیویٹ کیز اور بیج کے الفاظ (Seed Phrases) محفوظ رہے ہیں، تاہم چوری شدہ رابطہ معلومات کو فشنگ اور دیگر سوشل انجینئرنگ حملوں کے لیے استعمال کیے جانے کا شدید خدشہ موجود ہے۔شپ مونْک نے اس سکیورٹی واقعے کے سامنے آنے کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور متاثرہ صارفین سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس نوعیت کے سکیورٹی مسائل سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور اپنے سسٹم کی سکیورٹی کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے تمام متاثرہ ٹریزور صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالز، مشکوک ای میلز اور فشنگ لنکس کے حوالے سے انتہائی محتاط رہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ صارفین اپنی ڈیجیٹل سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹو فیکٹر اتھینٹیکیشن کا استعمال کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ پیغام پر اپنی ذاتی یا مالیاتی معلومات فراہم کرنے سے گریز کریں۔