LIVE
Loading Breaking News...

کھیلوں میں سیاسی مداخلت: ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر کا اہم انتباہ

News Image
ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ کھیلوں پر سیاسی اثر و رسوخ کو سختی سے روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بیان لاس اینجلس اولمپکس اور فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلوں کے قریب آنے پر دیا۔
ورلڈ ایتھلیٹکس کے صدر نے کھیلوں کے میدانوں میں سیاستدانوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور اثر و رسوخ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ سیاست کو کھیلوں سے دور رکھا جائے تاکہ کھلاڑی اور مقابلے غیر جانبدارانہ ماحول میں منعقد ہو سکیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں کھیلوں کے بڑے میلے قریب آ رہے ہیں، جن میں لاس اینجلس اولمپکس اور فیفا ورلڈ کپ جیسے انتہائی اہم عالمی مقابلے شامل ہیں۔ صدر کا ماننا ہے کہ جب سیاستدان کھیلوں کے امور میں مداخلت کرتے ہیں تو اس سے کھیلوں کی روح متاثر ہوتی ہے اور شائقین کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کھیلوں کی تنظیموں کو مکمل طور پر خود مختار رہنا چاہیے تاکہ وہ بغیر کسی بیرونی دباؤ کے فیصلے کر سکیں۔ کھیلوں کے عالمی منظر نامے پر اس وقت تیاریوں کا سلسلہ عروج پر ہے، اور آنے والے برسوں میں لاس اینجلس میں ہونے والے اولمپکس کے ساتھ ساتھ فیفا کے بڑے ٹورنامنٹس بھی متوقع ہیں، جن پر پوری دنیا کی توجہ مرکوز ہے۔ کھیلوں کے مبصرین کے مطابق، اس قسم کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کھیلوں کی بڑی شخصیات عالمی سطح پر شفافیت اور اصولوں کی پاسداری چاہتی ہیں۔ ماضی میں بھی سیاست اور کھیلوں کے امتزاج پر کئی حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی ہے، اور اب جب کہ میگا ایونٹس سر پر ہیں، یہ مسئلہ دوبارہ بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔ ورلڈ ایتھلیٹکس کے سربراہ نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھیلوں کے فیصلے صرف میرٹ اور کھلاڑیوں کی بہتری کی بنیاد پر ہوں نہ کہ سیاسی ترجیحات پر۔