World
کین-بیٹوا ڈیم منصوبہ: خواتین کو معاوضے اور حقوق سے محروم رکھے جانے کا انکشاف
بھارت کے سب سے بڑے کین-بیٹوا ڈیم منصوبے کی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہو رہے ہیں جن میں خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے قانونی معاوضے کے تحفظات کو عملی میدان میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
بھارت کے سب سے بڑے دریائی لنک منصوبے یعنی کین-بیٹوا ڈیم پروجیکٹ کے تناظر میں ایک بڑا انسانی المیہ سامنے آیا ہے، جہاں اس منصوبے کی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہو رہے ہیں اور اس پورے عمل میں خواتین کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بڑے ترقیاتی منصوبے کے لیے زمین اور گھر چھوڑنے والے خاندانوں کو جو قانونی تحفظات اور معاوضے کے حقوق ملنے چاہیے تھے، انہیں عملاً نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی آبادی کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے بلکہ خواتین کے لیے معاشی اور سماجی بحران بھی پیدا کر دیا ہے۔
منصوبے کے اثرات کا جائزہ لینے والی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ جب گھر اجڑتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ خمیازہ خواتین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ روایتی طور پر جائیداد اور زمین کے مالکانہ حقوق مردوں کے نام پر ہونے کی وجہ سے معاوضے کی رقوم بھی براہ راست مردوں کے ہاتھوں میں جاتی ہیں، جس سے متاثرہ خواتین بالکل بے سہارا ہو جاتی ہیں۔ انہیں نہ تو نئے علاقوں میں روزگار کے متبادل ذرائع فراہم کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی ان کی گھریلو اور سماجی ضروریات کا کوئی خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے خواتین اور بچوں کی زندگی انتہائی کٹھن ہو چکی ہے۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت کی جانب سے اس غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبے ملک و قوم کی فلاح کے لیے ہوتے ہیں، لیکن اگر اس عمل میں انسانی جانوں بالخصوص کمزور طبقات اور خواتین کے حقوق کو پامال کیا جائے تو اس طرح کی ترقی کے فوائد سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ قانون کے مطابق ہر متاثرہ فرد کو یکساں معاوضہ اور بحالی کی سہولیات ملنی چاہئیں، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں اور متاثرہ علاقوں میں خصوصی سروے کروائیں۔ خواتین کو ان کے جائز حقوق دلوانے کے لیے شفاف حکمت عملی بنائی جائے تاکہ کین-بیٹوا ڈیم کے باعث بے گھر ہونے والے ہر خاندان اور ہر فرد بالخصوص خواتین کی باعزت بحالی کو یقینی بنایا جا سکے، بصورت دیگر یہ انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔