World
انڈونیشیا میں پہلی جماعت سے غیر ملکی زبان کی تعلیم کا فیصلہ
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں طلباء کی عالمی مسابقت بڑھانے کے لیے پہلی جماعت سے غیر ملکی زبانیںتعارف کرائی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد ابتدائی سطح پر ہی بچوں میں زبان سیکھنے کی صلاحیت کو نکھارنا ہے۔
جکارتا: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے جمعہ کے روز ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کا ارادہ ہے کہ پرائمری اسکولوں کی پہلی جماعت سے ہی طلباء کو غیر ملکی زبانیں سکھانے کا سلسلہ شروع کیا جائے تاکہ کم عمری سے ہی بچوں کی فکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ صدر کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے انڈونیشیا کے طلباء مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس پالیسی کے تحت ابتدائی طور پر کون سی زبانیں لازمی یا اختیاری قرار دی جائیں گی، اس پر ماہرینِ تعلیم کی ایک کمیٹی غور کر رہی ہے۔ محکمہ تعلیم اس منصوبے کے عملی نفاذ کے لیے ایک جامع نصاب تیار کرنے میں مصروف ہے، جس میں اساتذہ کی تربیت کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسکولوں میں اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں سے لیس کیا جائے گا تاکہ وہ چھوٹے بچوں کو روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر دلکش اور آسان انداز میں نئی زبانیں سکھا سکیں۔
ماہرینِ تعلیم نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی ابتدائی عمر میں نئی زبانیں سیکھنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر غیر ملکی زبان متعارف کرانے سے طلباء کے لسانی اور علمی افق وسیع ہوں گے، جو آگے چل کر ان کے پیشہ ورانہ اور تعلیمی کیریئر میں نہایت مفید ثابت ہوں گے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس طویل المدتی حکمت عملی کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور انڈونیشیا کے نوجوان عالمی منڈی اور بین الاقوامی برادری میں زیادہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے۔