Business
یورپی شیئرز ریکارڈ بلندی کے قریب، عالمی مارکیٹ کا حال
یورپی شیئرز امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات اور تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود ریکارڈ بلندی کے قریب مستحکم رہے۔ سرمایہ کار اب یورو زون کے اہم اقتصادی اعداد و شمار اور عالمی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کے روز یورپی شیئرز زیادہ تر بغیر کسی بڑے اتار چڑھاو کے اپنی ریکارڈ بلندی کے قریب مستحکم رہے ہیں۔ سرمایہ کار اس وقت مشرق وسطیٰ بالخصوص امریکہ اور ایران کے مابین تعطل کا شکار مذاکرات، تیل کی بلند قیمتوں اور آنے والے یورو زون کے اقتصادی اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے سمت کا تعین کیا جا سکے۔
اسٹاکس 600 (STOXX 600) انڈیکس، جو کہ پورے یورپ کی کارپوریٹ کارکردگی کا آئینہ دار ہے، مضبوط کارپوریٹ آمدنی کی توقعات کی وجہ سے تاحال سہارا پائے ہوئے ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ اور بالخصوص ایران اور مغربی ممالک کے مابین کشیدگی نے سرمایہ کاروں میں ایک محتاط رویہ پیدا کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے منڈی میں کسی بھی بڑی تیزی کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، توانائی کے شعبے میں تیل کی قیمتیں مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث تیل کی رسد سے وابستہ خدشات برقرار ہیں، جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور یورپی صنعتوں پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی تجارت اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔
علاوہ ازیں، کاروباری حلقے اب آئندہ ہفتے جاری ہونے والے یورو زون کے افراط زر اور پیداواری اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔ یہ اعداد و شمار یورپ کے مرکزی بینک (ECB) کے آئندہ مالیاتی فیصلوں اور شرح سود میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ تب تک، یورپی منڈیوں میں محدود دائرے میں تجارت کا یہ رجحان جاری رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔