World
امریکی بحریہ کے ملاح کے والد کی بیٹے کی جگہ ڈیوٹی کی انوکھی پیشکش
امریکی ریاست اوہائیو سے تعلق رکھنے والے ایک شہری جیفرسن کیلی نے سینیٹر برنی مورینو کو خط لکھ کر اپنے بیٹے کی جگہ خود بحریہ میں خدمات انجام دینے کی پیشکش کی ہے۔ ان کا مقصد اپنے بیٹے کو بحفاظت گھر واپس بلانا اور فوجی خدمات کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔
امریکی ریاست اوہائیو کے شہر سناتی سے تعلق رکھنے والے ایک باپ جیفرسن کیلی نے امریکی بحریہ کے حکام اور سینیٹرز کو حیران کرتے ہوئے ایک انوکھی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو بحفاظت گھر واپس لانے کے لیے خود اس کی جگہ بحریہ میں خدمات انجام دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ جیفرسن کیلی نے اس سلسلے میں ایک باضابطہ خط سینیٹر برنی مورینو کو ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے جوان بیٹے کی حفاظت کے لیے اس کی جگہ خود یہ ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جیفرسن کیلی نے اپنے بیٹے کی طویل تعیناتی اور سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک والد کی حیثیت سے وہ اپنے بیٹے کو خطرے میں نہیں دیکھ سکتے اور اگر قانون اور ضابطے اجازت دیں تو وہ اپنے بیٹے کے فرائض خود سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ خط ملنے کے بعد سیاسی اور عسکری حلقوں میں بھی اس انوکھے مطالبے پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا اس نوعیت کے جذباتی مطالبات پر کوئی انتظامی کارروائی کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
امریکی بحریہ میں اس طرح کے معاملات انتہائی سنجیدہ سمجھے جاتے ہیں جہاں فوجیوں کی تعیناتی کے سخت قوانین موجود ہوتے ہیں۔ عام طور پر خاندانی بنیادوں پر متبادل خدمات کی اجازت نہیں دی جاتی، تاہم اس دل دہلا دینے والے واقعے نے عسکری حکام کی توجہ مبذول کرا لی ہے۔ جیفرسن کیلی کے اس قدم نے سوشل میڈیا پر بھی کافی توجہ حاصل کی ہے جہاں عام لوگ ایک باپ کے اپنے بیٹے کے لیے جذبے کو سراہ رہے ہیں جبکہ ماہرین اسے فوج کے اندرونی ضابطوں کے تحت ناممکن قرار دے رہے ہیں۔