World
جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، شاپنگ مال میں دھماکہ اور بڑے پیمانے پر تباہی
جاپان کے پریفیکچر کوماموٹو میں 7.1 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں گھر بجلی سے محروم ہوگئے جبکہ ایک شاپنگ مال میں دھماکے کے بعد کئی افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے تقریباً تین لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ٹوکیو: جاپان کے جنوبی علاقے کوماموٹو پریفیکچر میں منگل کے روز 7.1 شدت کا ایک طاقتور زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں ہزاروں گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی، سڑکیں پھٹ گئیں اور ایک جزوی طور پر منہدم ہونے والے شاپنگ مال میں دھماکے کے بعد متعدد افراد کے پھنس جانے اور جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹوکیو میں اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے بتایا کہ حکام اب تک نقصان کے حتمی تخمینے میں مصروف ہیں کیونکہ اس علاقے کو ایک دہائی قبل بھی ایک ہلاکت خیز زلزلے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ انہیں پہلے ہی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں کہ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش، آتش زدگی، سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ عمارتوں کے گرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق تقریباً تین لاکھ افراد کو انخلا کے مراکز کی طرف جانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم تاکائچی کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد مسلسل جھٹکوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے 3600 فوجیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ پبلک براڈکاسٹر این ایچ کے کے مطابق ایک ہسپتال میں پچاس سے زائد زخمیوں کو لایا گیا ہے جبکہ نکی اخبار نے اطلاع دی ہے کہ زلزلے کے وقت ایک تیز رفتار ٹرین میں سوار چند مسافر بھی زخمی ہوئے۔ فائر سروسز کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد ایون شاپنگ مال میں ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں کئی افراد اندر پھنس گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے میں کئی افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ ایون کے ایک ترجمان نے بتایا کہ زلزلے کے فوری بعد گاہکوں اور عملے کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا تاہم بعد میں ہونے والے دھماکے کی اصل وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی ہے۔ زلزلے کے مرکز کے قریب واقع کاروباری و صنعتی اداروں نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے پلانٹس سے کارکنان کو نکال لیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی چپ بنانے والی کمپنی ٹی ایس ایم سی کے علاوہ سونی اور فوجی فلم نے بھی اپنے متعلقہ پلانٹس سے عملے کا انخلا کیا۔ جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی کے ایک اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ جن علاقوں میں سب سے زیادہ جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، وہاں کے رہائشی آئندہ ایک ہفتے تک مزید طاقتور زلزلوں اور تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر ہوشیار رہیں۔ سونامی کی وارننگ جو زلزلے کے فوراً بعد جاری کی گئی تھی، اسے بعد میں واپس لے لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جاپان دنیا کے زلزلہ زدہ ترین ممالک میں شامل ہے جہاں ہر پانچ منٹ میں کم از کم ایک زلزلہ آتا ہے۔