LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں جدت طرازی اور تکنیکی چیلنجز پر جامع رپورٹ

News Image
امریکہ کی عالمی بالادستی اور سپر پاور کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے تکنیکی جدت طرازی انتہائی ضروری قرار دی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تمام تر ترقی کے باوجود نظام میں ایک بنیادی اور اہم ٹکڑا غائب ہے۔
سابق ریپبلکن سینیٹر میلکم والوپ نے ایک بار یہ کہا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ آزادی کے لیے لڑنے کی واحد جگہ کانگریس کے ایوان ہیں۔ یہی بات تکنیکی جدت طرازی کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے کیونکہ امریکہ کی تکنیکی برتری اور عالمی سپر پاور کا درجہ برقرار رکھنے کے لیے جدت طرازی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اگر امریکہ کو اپنی معاشی اور عسکری برتری قائم رکھنی ہے تو اسے تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں مزید تیزی لانا ہوگی۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں دنیا بھر کے ممالک ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے امریکہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض روایتی پالیسیوں اور پرانے طریقوں پر انحصار کرکے مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ میں سائنسی تحقیق اور تعلیمی اداروں کو درکار وسائل کی فراہمی کے باوجود بعض ایسے انتظامی اور ساختیاتی نقائص موجود ہیں جو اس پوری ترقیاتی دوڑ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ پالیسی سازوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ نجی شعبے اور سرکاری اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے بغیر مطلوبہ نتائج کا حصول ناممکن ہے۔ اس غائب شدہ کڑی کو تلاش کیے بغیر امریکہ کے لیے اپنی تکنیکی برتری کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ فیصلہ ساز اداروں میں نئی سوچ کو فروغ دیا جائے اور روایتی بیوروکریسی کے جمود کو توڑا جائے۔ امریکی معیشت اور سلامتی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ مستقبل کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور کوانٹم کمپیوٹنگ میں عالمی رہنما کا کردار ادا کرے۔ جب تک ان شعبوں میں درپیش رکاوٹوں کو دور نہیں کیا جاتا اور نجدت پسندی کے لیے سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، امریکہ کی طویل المدتی سپر پاور کی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ نکسورا نیوز اردو کی اس رپورٹ کے مطابق، آنے والے برسوں میں امریکہ کی کامیابی کا دارمدار اسی بات پر ہوگا کہ آیا وہ اپنی پالیسیوں میں موجود اس بنیادی خلا کو پر کر پاتا ہے یا نہیں۔ دنیا بھر کے مبصرین کی نظریں اس وقت امریکی کانگریس اور تکنیکی اداروں کے آئندہ لائحہ عمل پر مرکوز ہیں تاکہ یہ دیکھا جا सके کہ آیا وہ اس گمشدہ ٹکڑے کو تلاش کر کے اپنی برتری کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔