LIVE
Loading Breaking News...

گوگل جمنای کی اسکولوں میں اے آئی کے انضمام پر تجاویز

News Image
تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر اساتذہ کے لیے گوگل جمنای سے رہنمائی حاصل کی گئی۔ ماہرین تعلیم نے اس حوالے سے فراہم کردہ تجاویز کا جائزہ لیا اور ان کے مثبت اور منفی اثرات پر روشنی ڈالی۔
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا بھر کے شعبوں کی طرح تعلیمی میدان میں بھی اپنے قدم جما لیے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے تعلیمی نظام پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے حال ہی میں ایک دلچسپ تجربہ کیا گیا، جس میں گوگل کے جدید چیٹ بوٹ 'جمنای' (Gemini) سے یہ رہنمائی طلب کی گئی کہ اسکولوں میں اساتذہ کس طرح مصنوعی ذہانت کو اپنے تدریسی طریقوں کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ اے آئی ٹیکنالوجی اساتذہ کو روزمرہ کے امور میں کس نوعیت کی مدد فراہم کر سکتی ہے۔ گوگل جمنای کی طرف سے فراہم کردہ ردعمل اور تجاویز کا جب تفصیلی جائزہ لیا گیا تو ماہرین تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کو کلاس رومز میں محتاط انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت اسباق کی تیاری، ہوم ورک کے ڈیزائن اور طلبا کی انفرادی صلاحیتوں کے مطابق مشقیں بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اساتذہ اس ٹیکنالوجی کو بطور معاون استعمال کریں نہ کہ انسانی استاد کے متبادل کے طور پر۔ اس تجربے کے دوران تعلیمی ماہرین نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے طلبا میں تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔ جمنای نے اپنی تجاویز میں اس بات کی سفارش کی کہ اساتذہ کو طلبا کو اے آئی کے اخلاقی استعمال کے بارے میں بھی آگاہ کرنا چاہیے تاکہ وہ اس کے مثبت پہلوؤں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ تعلیمی حلقوں میں اس بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل اور روایتیتعلیم کا امتزاج کس طرح تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔