LIVE
Loading Breaking News...

کاروباری اداروں میں اے آئی ایجنٹس کا استعمال اور مستقبل کے چیلنجز

News Image
کاروباری دنیا میں مصنوعی ذہانت کا پہلا دور زیادہ تر شعبہ جاتی بنیادوں پر منظم کیا گیا ہے۔ اس نئے رجحان کے بعد اب کارپورٹ سیکٹر کو درپیش اصلاح اور تطبیق کے چیلنجز پر غور کیا جا رہا ہے۔
جدید کاروباری دنیا میں مصنوعی ذہانت کا پہلا دور بڑی حد تک شعبہ جاتی بنیادوں پر منظم کیا گیا ہے۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ سیلز ڈیپارٹمنٹ کو اپنا اے آئی اسسٹنٹ مل چکا ہے، خریداری کا شعبہ ایک الگ ایجنٹ پر انحصار کر رہا ہے، ٹرانسپورٹیشن میں بہتری کے لیے ایک آپٹیمائزیشن لیئر موجود ہے، جبکہ گودام کے امور اور فنانس کے شعبے بھی اپنے الگ الگ تجزیاتی ٹولز اور آٹومیشن سسٹمز کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تمام پیش رفت بلاشبہ انفرادی کارکردگی کو بڑھانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہی ہے، لیکن اس سے ایک نیا اور بڑا سوال جنم لیتا ہے کہ جب ہر فنکشن کے پاس اپنا الگ اے آئی ایجنٹ موجود ہو، تو پوری کمپنی کی مجموعی حکمت عملی کو کون بہتر بنائے گا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروباری اداروں میں اے آئی کا یہ جزوی پھیلاؤ وقتی طور پر تو پیداوار میں اضافہ کرتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ مختلف محکموں کے درمیان ڈیجیٹل جزائر پیدا کر سکتا ہے۔ سیلز کا اے آئی سسٹم خریداری کے نظام سے براہ راست ہم آہنگ نہیں ہوتا، اور فنانس کا اے آئی ایجنٹ ٹرانسپورٹیشن کی مشکلات کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر رہ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں پوری تنظیم کو ایک مربوط اکائی کے طور پر چلانے اور تمام اے آئی سسٹمز کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کارپوریٹ رہنما محض الگ الگ شعبوں میں مصنوعی ذہانت نصب کرنے کے بجائے ایک ایسے مرکزی فریم ورک پر غور کریں جو تمام ایجنٹس کی کارکردگی کا احاطہ کر سکے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تنظیموں کو ایسے ماہرین کی ضرورت ہوگی جو نہ صرف تکنیکی امور کو سمجھیں بلکہ پورے کاروباری ماڈل کو بہتر بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ مستقبل کا کامیاب ادارہ وہی ہوگا جو ان تمام الگورتھمز اور اے آئی ایجنٹس کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت جوڑ سکے۔