Technology
ڈیٹا سینٹرز اور گیس پاور پلانٹس کی آلودگی کی اصل وجہ کیا ہے؟
ٹیکنالوجی جائنٹ ایمیزون نے ٹیکساس میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک بڑا آف گرڈ گیس پاور پلانٹ حاصل کر لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منصوبے ماحول کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا بڑا سبب بن سکتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، وہیں ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کی ضروریات بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ایمیزون نے ٹیکساس میں ایک بہت بڑا آف گرڈ پاور پلانٹ حاصل کر لیا ہے، جسے خصوصی طور پر اس کے ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ تاہم، ماہرینِ ماحولیات نے اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ پلانٹ امریکہ میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے استعمال ہونے والے گیس پاور پلانٹس اتنے زیادہ آلودہ کیوں ہوتے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ ان پلانٹس کی مسلسل اور بھاری توانائی کی طلب ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو چوبیس گھنٹے، سال کے تینوں سو پینسٹھ دن بلاتعطل بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ روایتی طور پر قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع جیسے کہ آفتابی اور پون توانائی موسمی حالات پر منحصر ہوتے ہیں اور ان میں تعطل کا خطرہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی کمپنیاں اپنی یقینی توانائی کے لیے فوسل فیول خصوصاً گیس پر انحصار کرتی ہیں، جو جلنے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں خارج کرتی ہے۔
اس صورتحال نے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کی دوڑ میں ہیں، تو دوسری طرف یہ اقدامات عالمی حد شدت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیٹا سینٹرز کے لیے اسی طرح گیس پاور پلانٹس کا حصول جاری رہا، تو دنیا کے لیے کاربن کے اخراج کو صفر تک لانے کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا، اور ٹیکنالوجی کی ترقی زمین کے ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔