LIVE
Loading Breaking News...

خواجہ آصف کا بیان: بیوروکریسی پاکستان کی اصل حکمران ہے

News Image
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں بیوروکریسی ہی اصل اور مستقل حکمران ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منتخب حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر اصل اختیارات بیوروکریسی کے پاس ہوتے ہیں۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ملک میں بیوروکریسی پاکستان کی 'حقیقی اور مستقل حکمران' ہے۔ ان کا یہ بیان سیاسی و انتظامی حلقوں میں خاصی بحث کا موضوع بن گیا ہے، جہاں ملکی نظام چلانے میں سول سرونٹس اور سیاسی قیادت کے کردار پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔خواجہ آصف نے اپنے حالیہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سیاسی حکومتیں اور وزراء ایک مخصوص مدت کے لیے منتخب ہو کر آتے ہیں اور عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت فیصلوں کی اصل اور مستقل مشینری بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن پالیسیوں کے نفاذ اور ریاست کے روزمرہ امور میں مستقل مزاجی بیوروکریسی ہی برقرار رکھتی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خواجہ آصف کا یہ بیان پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی اندرونی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اکثر سیاسی رہنماؤں کی طرف سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ بیوروکریٹک طریقہ کار اور سرخ فیتے کی روایت کی وجہ سے سیاسی فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر ہوتی ہے، جس سے ملک میں گورننس کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بحث ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو متعدد معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے اور تمام اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔