Politics
مریم نواز کا بلاول بھٹو پر جوابی وار، آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج قبول کرنے کا مطالبہ
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں پی پی پی کی شکست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں نتائج کھلے دل سے تسلیم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن پر دھاندلی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام ہی اصل فیصلے کرتے ہیں۔
لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ رونا دھونا بند کریں اور آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے نتائج کو کھلے دل سے قبول کریں۔ مریم نواز نے ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں ہار جیت کا فیصلہ عوام کے ووٹوں سے ہوتا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس جمہوری عمل کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ عوامی خدمت کی سیاست کی ہے اور جمہوریت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے تمام الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں عوام نے اپنے آزادانہ حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور کسی بھی ادارے یا سیاسی جماعت پر بلاوجہ الزام تراشی کرنے سے حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست نہیں بلکہ عام لوگ اپنے ووٹ کی طاقت سے انتخابی نتائج کا فیصلہ کرتے ہیں، اس لیے تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مریم نواز کا یہ سخت بیان پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی نتائج کے بعد دونوں بڑی اتحادی جماعتیں ایک بار پھر آمنے سامنے آ چکی ہیں، جہاں پی پی پی کی طرف سے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں ن لیگ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر ضروری دباؤ میں نہیں آئے گی اور عوامی مینڈیٹ کا بھرپور دفاع کرے گی۔