Business
جاپانی اسٹاکس میں تیزی، شرح سود کی توقعات اور AI کا اثر
جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں فوائد کے باعث تیزی کا تسلسل جاری ہے۔ سرمایہ کار ستمبر یا اکتوبر میں بینک آف جاپان کی ممکنہ شرح سود میں تبدیلی پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ٹوکیو: جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ دنوں کے دوران تیزی کا رجحان مسلسل جاری ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کا کم ہونا اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے شعبے میں حاصل ہونے والے فوائد ہیں۔ عالمی اور مقامی مالیاتی منڈیوں میں اس پیش رفت کو انتہائی مثبت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ اب ستمبر کے مہینے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی طرف سے 25 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں اضافے کا امکان لگ بھگ 35 فیصد دیکھ رہی ہے، جو کہ محض ایک ہفتہ قبل 55 فیصد تک لگایا جا رہا تھا۔ اس کمی نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کو بڑی حد تک مطمئن کیا ہے اور رسک لینے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔ دوسری جانب ملکی سطح پر بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بینک آف جاپان کی آئندہ کی پالیسی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مرکزی بینک ستمبر یا اکتوبر کے دوران شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپانی کرنسی یعنی ین کی کمزور قدر ملک میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود، مصنوعی ذہانت سے جڑے اسٹاکس میں خریداری کے رجحان نے جاپانی مارکیٹ کو گرنے سے بچایا اور اس کو نئی بلندیوں کی طرف گامزن کیا۔ کاروباری حلقے آنے والے ہفتوں میں بین الاقوامی معاشی اشاریوں اور مرکزی بینکوں کے فیصلوں کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، جو اس تیزی کے تسلسل کا تعین کریں گے۔