Technology
ایئر بی این بی اور ایکسپیڈیا میں ایل ایل ایم پر مبنی گراف کیو ایل موکس کا آغاز
ایکسپیڈیا گروپ نے 'mockql-rs' کے نام سے ایک اوپن سورس رسٹ سی ایل آئی متعارف کرایا ہے جو ایل ایل ایم کی مدد سے ڈیٹا تیار کرتا ہے۔ یہ اقدام ایئر بی این بی کے اسی نوعیت کے فیچر کے بعد سامنے آیا ہے، جس کا مقصد ڈویلپرز کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنانے کے لیے ایئر بی این بی اور ایکسپیڈیا جیسے بڑے اداروں نے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ایکسپیڈیا گروپ نے حال ہی میں 'mockql-rs' کے نام سے ایک نیا اوپن سورس رسٹ سی ایل آئی (Rust CLI) متعارف کرایا ہے، جو '@mock' سے مزین گراف کیو ایل فیلڈز کو درخواست کے وقت لارج لینگویج ماڈلز یعنی ایل ایل ایم (LLMs) کے ذریعے تیار کردہ ڈیٹا سے پر کرتا ہے۔ یہ پیشرفت اپریل میں ایئر بی این بی کی جانب سے متعارف کروائے گئے '@generateMock' فیچر اور فروری میں گراف کیو ایل فاؤنڈیشن کی جانب سے کھولے گئے ایک آر ایف سی کے تسلسل میں سامنے آئی ہے۔ یہ تمام اقدامات صنعت کی اس مشترکہ ضرورت کو پورا کرتے ہیں جہاں فرنٹ اینڈ اور بیک اینڈ ڈویلپمنٹ کے دوران موک ڈیٹا کی تیاری ایک اہم مرحلہ ہوتی ہے۔ روایتی طریقوں میں اس عمل کے لیے خاصا وقت اور محنت درکار ہوتی ہے، لیکن اب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ کام خودکار طریقے سے انجام پانے لگا ہے۔ اگرچہ یہ نئے ٹولز اور فریم ورک ڈویلپرز کو بے پناہ سہولیات فراہم کر رہے ہیں، لیکن تکنیکی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ باضابطہ تصریحات یا اسپیفیکیشن اس تکنیکی ترقی سے قدرے پیچھے رہ گئی ہیں۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اس شعبے میں باضابطہ عالمی معیارات اور پروٹوکولز طے نہیں کیے جاتے، مختلف سسٹمز کے درمیان مطابقت پیدا کرنا چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کے باوجود ایئر بی این بی اور ایکسپیڈیا کی جانب سے یہ قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی کمپنیاں سافٹ ویئر پروڈکشن میں مصنوعی ذہانت اور ایل ایل ایم کو اپنانے میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، جس سے مستقبل میں ڈویلپرز کا کام مزید آسان ہو جائے گا۔