LIVE
Loading Breaking News...

اے او سی کا انڈے منجمد کرنے کا فیصلہ اور انشورنس کوریج کی بحث

News Image
امریکی کانگریس کی رکن الیگزینڈ্রিয়া اوکاسیو کورٹیز نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے انڈے منجمد کروا رہی ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد نیویارک کے کچھ قانون سازوں نے انشورنس کمپنیوں کے لیے اس طریقہ کار کے اخراجات اٹھانا لازمی قرار دینے کی مہم شروع کر دی ہے۔
امریکی کانگریس کی معروف رکن الیگزینڈ্রিয়া اوکاسیو کورٹیز (اے او سی) نے اس ہفتے سوشل میڈیا پر اپنی نجی زندگی سے جڑے کچھ جذباتی اور معلوماتی پیغامات شیئر کیے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ان نوجوان پیشہ ور خواتین میں شامل ہو چکی ہیں جو مستقبل میں ماں بننے کے امکانات کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے انڈے منجمد (Egg Freezing) کروانے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ ان کے اس برملا اعتراف کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں تولیدی صحت کے مسائل اور اس سے جڑے مالیاتی اخراجات پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ اس پیش رفت کے تناظر میں، نیویارک کے چند سرکردہ قانون سازوں نے طبی ماہرین کے ساتھ مل کر یہ مطالبہ اٹھایا ہے کہ ریاست میں کام کرنے والی انشورنس کمپنیوں کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ انڈے منجمد کرنے جیسے جدید طبی طریقہ کار کے اخراجات کو بھی اپنی کوریج میں شامل کریں۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار عام طور پر انتہائی مہنگا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے عام خواتین کی اکثریت اس تک رسائی حاصل نہیں کر پاتیں اور مالی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے مستقبل کے خاندانی فیصلوں کو محدود کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ الیگزینڈ্রিয়া اوکاسیو کورٹیز کے اس بیان کے بعد عام خواتین اور خاص طور پر کیریئر اور پیشہ ورانہ زندگی میں مصروف خواتین کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تولیدی صحت جیسے حساس موضوعات پر کھل کر بات کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگر انشورنس کمپنیاں اس عمل کو کور کرنا شروع کر دیں تو یہ خواتین کے لیے ایک بہت بڑی معاشی راحت ثابت ہوگی۔ ماہرین صحت کے مطابق، انڈے منجمد کرنے کا عمل خواتین کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی جوانی کے صحت مند انڈے محفوظ کر کے مستقبل میں کسی بھی وقت حمل کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ نیویارک کے قانون ساز اس معاملے میں قانون سازی کے لیے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں تاکہ آنے والے دنوں میں اس بل کو باضابطہ طور پر ایوان میں پیش کیا جا سکے، جس سے ہزاروں خواتین کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔