LIVE
Loading Breaking News...

لاہور میں اٹارنی جنرل کی رہائش گاہ پر غلط چھاپہ، پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ

News Image
اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان کی لاہور رہائش گاہ پر غلطی سے چھاپہ مارنے کے معاملے پر سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ واقعے میں ملوث ایس ایچ او سمیت گیارہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
لاہور میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر غلطی سے چھاپہ مارنے کے واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سخت ایکشن لے لیا ہے۔ اس سنگین معاملے میں متعلقہ ایس ایچ او سمیت کل گیارہ پولیس اہلکاروں کے خلاف باضابطہ طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی اس غیر قانونی کارروائی پر اعلیٰ حکام نے بھی شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس بات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ آخر کار کس بنیاد پر اتنی اہم شخصیت کے گھر اس طرح کا اقدام اٹھایا گیا۔ اٹارنی جنرل کے ڈرائیور کی جانب سے درج کرائے گئے بیان کے مطابق، ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر گھر کے گیٹ پر چھلانگ لگائی اور اندر داخل ہو گئے۔ مدعی کی طرف سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکار گھر کے اندر داخل ہونے کے بعد سی سی ٹی وی کی فوٹیج کا ڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے گئے یا اس ریکارڈ کو جان بوجھ کر ڈیلیٹ کیا گیا تاکہ کارروائی کے شواہد مٹائے جا سکیں۔ اس واقعے نے ملک بھر کے حلقوں میں بالخصوص قانونی اور انتظامی سطح پر بڑی ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ پاکستان کے اٹارنی جنرل جیسے اہم ترین عہدے پر فائز شخصیات کی رہائش گاہوں کی سیکیورٹی اور پرائیویسی پر اس طرح کا حملہ انتہائی تشویشناک ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد محکمہ پولیس کے اندر بھی اندرونی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ محض غفلت کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما تھے۔ متاثرہ فریق اور قانونی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ملوث تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ناگوار واقعات سے بچا جا سکے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔