LIVE
Loading Breaking News...

ماحولیاتی بحران اور سرمایہ داری: روب یوری کا تجزیہ

News Image
روب یوری کے حالیہ مضمون میں امریکی ماحولیاتی پالیسیوں کی تاریخی ناکامی کو سرمائے کے مفادات سے جوڑا گیا ہے۔ ماحولیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے معاشی نظام میں بنیادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
ماحولیاتی بحران موجودہ دور کا ایک ایسا سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس تناظر میں روب یوری کا ایک تفصیلی مضمون سامنے آیا ہے جس میں امریکی ماحولیاتی پالیسیوں کی طویل مدتی اور مبینہ طور پر دانستہ ناکامیوں کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ مضمون میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کو ہمیشہ کارپوریٹ اور سرمائے کے مفادات کے تابع رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے کرہ ارض کو بچانے کی سنجیدہ کوششیں بار بار ناکام ہوئی ہیں۔ تجزیے کے مطابق، امریکہ میں ماحولیاتی پالیسی کی تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب بھی منافع اور ماحول کے تحفظ کے درمیان ٹکراؤ آیا، تو ہمیشہ سرمائے اور صنعت کاروں کے مالیاتی مفادات کو فوقیت دی گئی۔ پالیسی سازوں نے ماحولیاتی قوانین کو اس طرح تشکیل دیا کہ بڑی کارپوریشنز بلا روک ٹوک اپنے کاروباری سرگرمیاں جاری رکھ سکیں، چاہے اس سے ماحول کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات دن بہ دن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور عالمی سطح پر طے شدہ اہداف کا حصول مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ روب یوری اپنے مضمون میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس تباہ کن صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سرمائے کی بے لگام طاقت کو قابو میں لایا جائے۔ جب تک معاشی اور صنعتی نظام پر کارپوریٹ سیکٹر کی اجارہ داری ختم نہیں کی جاتی اور عوامی فلاح و بہبود اور ماحولیاتی توازن کو ترجیح نہیں دی جاتی، تب تک کرہ ارض کو ماحولیاتی تباہی سے بچانا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ایک ایسی جامع اور منصفانہ پالیسی کی ضرورت ہے جو نفع خوری کے بجائے کرہ ارض کے بقا کو یقینی بنائے۔