World
پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ: ہینلے انڈیکس میں چوتھا کمزور ترین مقام
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی تازہ ترین جاری کردہ درجہ بندی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے۔ اس فہرست میں پاکستانی پاسپورٹ 101 ویں نمبر پر موجود ہے جسے صرف 29 ممالک میں ویزا فری یا آن ائیول ویزا کی سہولت حاصل ہے۔
برطانیہ کی معروف فرم 'ہینلے اینڈ پارٹنرز' کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین عالمی پاسپورٹ انڈیکس میں پاکستانی پاسپورٹ کی پینتیس ویں پوزیشن کے حوالے سے تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے، جو کہ عالمی درجہ بندی میں 101 ویں نمبر پر براجمان ہے۔ اس درجہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو بین الاقوامی سفر کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دنیا بھر میں ان کی نقل و حرکت کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔ انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ پر دنیا بھر کے صرف 29 ممالک میں ہی بغیر پیشگی ویزا یا ویزا آن ائیول کی سہولت کے ساتھ داخلہ ممکن ہے۔ یہ صورتحال ملک کے شہریوں کے لیے تعلیمی، کاروباری اور سیاحتی مقاصد کی خاطر بیرون ملک سفر کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی اور معاشی مسابقت کے تناظر میں پاسپورٹ کی اس قدر کمزور پوزیشن حکومتی اداروں کے لیے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پستی کی بنیادی وجوہات میں معاشی چیلنجز، سکیورٹی خدامات، اور بین الاقوامی سطح پر کمزور سفارتی روابط شامل ہیں۔ جب تک ملک میں اقتصادی استحکام اور موثر سفارتی حکمت عملی نہیں اپنائی جاتی، اس قسم کی بین الاقوامی درجہ بندیوں میں بہتری کی توقع کرنا مشکل ہے۔ پاکستانی شہریوں اور مسافروں کے لیے یہ صورتحال نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر ملک کے تشخص کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اصلاحات کا تقاضا بھی کرتی ہے۔