LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر ملکی ووٹرز کے خلاف تحقیقاتی مہم ناکام

News Image
غیر قانونی ووٹرز کے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے حکومت نے ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کی طاقت کا استعمال کیا۔ اب تک کی جانے والی ان تمام کوششوں کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے ہیں۔
امریکی سیاست میں غیر قانونی ووٹنگ کے الزامات ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہے ہیں اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے ہمیشہ سخت موقف اپنایا ہے۔ اپنے دعوؤں کو عملی جامہ پہنانے اور غیر ملکی ووٹرز کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک غیر معمولی کوشش کی گئی، جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ امریکی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ اس مقصد کے لیے ریاست نے ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کی طاقت کو بھی استعمال کیا، جو کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی ایک ایسی شاخ ہے جسے بنیادی طور پر سرحد پار کے بدترین جرائم اور اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم، تمام تر حکومتی کوششوں اور وسائل کے استعمال کے باوجود، یہ مہم اب تک انتہائی کمزور نتائج ہی دے سکی ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، جتنا بڑا دعویٰ کیا گیا تھا، اتنی بڑی سطح پر شواہد اکٹھے کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں وہ ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آ سکے جو اس بات کی تصدیق کر سکیں کہ غیر ملکی شہریوں نے اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالا ہو جس سے انتخابی نتائج پر کوئی نمایاں فرق پڑا ہو۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث چھڑ دی ہے کہ آیا سرکاری اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوششیں دراصل عوامی وسائل کا ضیاع ہیں اور ان کا مقصد صرف سیاسی بیانیے کو تقویت دینا ہے۔ دوسری طرف، اس ناکامی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتخابی نظام اور ووٹر رجسٹریشن کا عمل اتنی آسانی سے متاثر نہیں ہوتا جتنا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید بحث متوقع ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ اس مہم کے نتائج نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ زمینی حقائق اور سیاسی بیانات میں اکثر بڑا فرق ہوتا ہے، اور بغیر پختہ شواہد کے عدالتی یا انتظامی اقدامات کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے۔