LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کا بحران

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی تحویل میں لینے کی دھمکی کے بعد خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان جاری معرکہ اصل میں اقتصادی دباؤ برداشت کرنے کی سکت کا امتحان بن چکا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب ایک ایسے اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں دونوں فریقین کے مابین اصل مقابلہ اس بات کا ہے کہ کون معاشی اور سیاسی دباؤ کے سامنے پہلے گھٹنے ٹیکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس عزم کے بعد کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز کو امریکی territory قرار دے دیں گے، عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور خطے کے استحکام کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ تنازع اب روایتی سفارت کاری سے نکل کر براہ راست اقتصادی اور اسٹریٹجک جنگ کا روپ دھار چکا ہے۔ دوسری جانب، تہران کی حکومت نے اس خطے اور آبنائے ہرمز پر اپنی پوزیشن سخت کرتے ہوئے مکمل طور پر جارحانہ اور بیباک موقف اپنا رکھا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ وہ اس اقتصادی گھیراؤ اور دباؤ کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، چاہے اس کے لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے اور عام صارفین پر بھی اس کا بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بحران اب بنیادی طور پر اعصاب کی جنگ بن چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کو تیل کی بلند قیمتیں برداشت کرنے کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے تاکہ اس طویل المدتی معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو مزید کمزور کیا جا سکے۔ خطے میں موجود عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کی اہم ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ اس پورے منظر نامے میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ معاشی دباؤ کی یہ حکمت عملی کس حد تک کارگر ثابت ہوتی ہے۔ کیا امریکہ کی جانب سے بڑھایا جانے والا یہ دباؤ تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوگا، یا پھر یہ کشیدگی خطے کو کسی بڑے اور خطرناک اقتصادی بحران میں دھکیل دے گی۔ بہرحال، اس وقت دنیا بھر کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ اس کشمکش میں کون سا فریق پہلے پسپا ہوتا ہے۔