Technology
آرم کے بانی ہرمن ہاؤسر کی مصنوعی ذہانت اور مارکیٹ ببل پر وارننگ
برطانوی چپ ڈیزائننگ کمپنی آرم کے شریک بانی ہرمن ہاؤسر نے مصنوعی ذہانت کے موجودہ عروج پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب تو حقیقی ہے لیکن اس کے ساتھ مارکیٹ میں مالیاتی بلبلے کا خطرہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔
برطانوی چپ ڈیزائننگ فرم آرم (Arm) کے شریک بانی ہرمن ہاؤسر نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی موجودہ تیز رفتار ترقی کے حوالے سے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو اور تجزیے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کا یہ نیا تکنیکی انقلاب بالکل حقیقی ہے اور اس کے اثرات دور رس ہوں گے، تاہم اس کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں کو مارکیٹ میں کسی بڑے مالیاتی بلبلے کے خطرے سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے۔ ہرمن ہاؤسر کا شمار دنیا کے ان تجربہ کار ٹیکنالوجی ماہرین میں ہوتا ہے جنہوں نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران رونما ہونے والے ہر بڑے ڈیجیٹل اور کمپیوٹنگ انقلاب کو قریب سے دیکھا ہے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے جو صحت، تعلیم، صنعت اور روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں کو یکسر بدل کر رکھ سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بنیاد پر جن نئے ماڈلز اور سیمی کنڈکٹرز کی تیاری جاری ہے، وہ مستقبل کی معیشت کی تشکیل کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ جس تیزی سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے اور کمپنیوں کی قدر میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے، وہ ایک عارضی مالیاتی بلبلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی اور انقلابی ٹیکنالوجی سامنے آتی ہے تو سرمایہ کار جذبات میں آ کر حد سے زیادہ سرمایہ کاری کر دیتے ہیں جس سے مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ہرمن ہاؤسر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیاں اے آئی کے شعبے میں سبقت لے جانے کے لیے اربوں ڈالر جھونک رہی ہیں۔ چپس بنانے والی کمپنیوں سے لے کر سافٹ ویئر ڈیولپرز تک ہر کوئی اس دوڑ میں شامل ہے۔ ایسی صورت حال میں ماہرین کی طرف سے احتیاط کا مشورہ دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صنعت کو پائیدار ترقی کے لیے صرف جوش نہیں بلکہ ہوش مندانہ حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ محض وقتی ہیجان کا شکار ہونے کی بجائے طویل مدتی اور حقیقت پسندانہ منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی دھچکے سے بچا جا سکے۔