LIVE
Loading Breaking News...

ایم آئی ٹی کے روبوٹک ٹائلز پانی پر تیرتی ہوئی عمارتیں بنانے لگے

News Image
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے محققین نے ایسے جدید خود مختار روبوٹک ٹائلز تیار کیے ہیں جو پانی کی سطح پر خود بخود جڑ کر تیرتی ہوئی ساختیں یا عمارتیں تعمیر کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں بڑھتی ہوئی سمندری سطح اور سیلابوں کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے انجینئرز اور محققین نے ایک ایسی حیرت انگیز ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جو مستقبل کے تعمیراتی طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ سکتی ہے۔ اس نئی تحقیق کے تحت ایسے خود مختار روبوٹک ٹائلز بنائے گئے ہیں جو پانی کی سطح پر تیرتے ہوئے نہ صرف خود کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں بلکہ مختلف قسم کی تیرتی ہوئی ساختیں اور پلیٹ فارمز بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پوری دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں، سمندروں کی سطح میں اضافے اور ساحلی علاقوں میں سیلاب کے خطرات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ روبوٹک ٹائلز ایک مربوط نظام کے تحت کام کرتے ہیں جو پانی کے بہاؤ اور لہروں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہیں۔ ہر ٹائل میں ایسے سینسرز اور سسٹمز نصب کیے گئے ہیں جو اسے دوسرے ٹائلز کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور درست سمت میں حرکت کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ روایتی طریقوں کے برعکس، جن میں پانی پر ڈھانچے بنانے کے لیے بھاری مشینری اور طویل وقت درکار ہوتا ہے، یہ خود مختار روبوٹ سسٹمز بغیر کسی انسانی مداخلت کے اپنے طور پر ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کم وقت میں ڈھانچہ تیار کر لیتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے عملی نفاذ سے مستقبل میں تیرتے ہوئے شہروں، عارضی ہنگامی پناہ گاہوں اور سمندری تحقیقی مراکز کی تعمیر میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ جب زمین کا بڑا حصہ سمندر برد ہو رہا ہے اور آبادی کے لیے رہائش کے مسائل بڑھ رہے ہیں، تو پانی کی سطح کا یہ موثر استعمال انسانیت کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ ایم آئی ٹی کے محققین اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ اسے بڑے پیمانے پر سمندری اور آبی ذخائر پر استعمال کیا جا سکے، جس سے مستقبل کے تعمیراتی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔