LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور اے جی آئی سکیورٹی کا تضاد، کمپنیاں اور گورننس

News Image
اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل ڈیپ مائنڈ جیسی بڑی کمپنیاں اے جی آئی کے ممکنہ خطرات سے خبردار کر رہی ہیں۔ تاہم، وہی کمپنیاں ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے ماڈلز اور حفاظتی اقدامات بھی پیش کر رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اس وقت ایک عجیب اور تشویشناک تضاد جنم لے رہا ہے جہاں دنیا کی صف اول کی لیبارٹریز جیسے کہ اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل ڈیپ مائنڈ ایک طرف تو ارٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس یعنی اے جی آئی کے ممکنہ خطرات اور انسانیت کے لیے تباہ کن نتائج سے دنیا کو باقاعدہ خبردار کر رہی ہیں، تو دوسری طرف وہ خود ہی ان خطرات کو کنٹرول کرنے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنے تیار کردہ نئے سکیورٹی ماڈلز اور انتظامی حل بھی پیش کر رہی ہیں۔ اس دوہرے کردار نے عالمی سطح پر پالیسی سازوں اور ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ اس سے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی سمت طے کرنے میں ان تجارتی اداروں کا اثر و رسوخ کتنا ہونا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں بیک وقت فائر فائٹر اور پائیدار آگ لگانے والے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ ایسے طاقتور سسٹمز تیار کر رہی ہیں جن کی صلاحیتیں انسان کی فہم و فراست سے باہر نکلتی جارہی ہیں، اور ساتھ ہی وہ خود ہی ریگولیٹرز اور حکومتوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ ان کے خطرات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس صورتحال نے تکنیکی گورننس کے پورے نظام کو ایک بحران سے دوچار کر دیا ہے، جہاں عام عوام اور غیر جانبدار سائنسدانوں کے پاس اس بات کا کوئی مؤثر ذریعہ نہیں ہے کہ وہ ان دعوؤں کی سچائی کو پرکھ سکیں۔ دوسری جانب، ان بڑے اداروں کا مؤقف ہے کہ چونکہ وہ ان ٹیکنالوجیز کی اندرونی پیچیدگیوں کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے حفاظتی معیارات اور پالیسیاں بنانے میں بھی ان کا کردار سب سے اہم ہونا چاہیے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ایک خطرناک اجارہ داری قائم ہو رہی ہے جہاں بڑی ٹیک کمپنیاں خود اپنے لیے قوانین بنا رہی ہیں اور اپنے کاروباری مفادات کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے اس معاملے میں آزادانہ مداخلت کریں تاکہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا فیصلہ صرف چند تجارتی اداروں کے ہاتھ میں نہ رہے۔