LIVE
Loading Breaking News...

ٹیکنالوجی سیکٹر میں ملازمتوں کی کٹوتیاں ۲۰۲۶ء - نیکسورا نیوز

News Image
سال ۲۰۲۶ء کے دوران ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملازمتوں سے برطرفیوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ میٹا اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے نفاذ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر عملے کو فارغ کر رہی ہیں۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ۲۰۲۶ء کے دوران برطرفیوں کا ایک ایسا طوفان آیا ہے جس نے پچھلے سال کے تمام ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سال کے ابتدائی نو مہینوں کے دوران ہی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے فارغ کیے جانے والے ملازمین کی تعداد ۲۰۲۶ء کے مجموعی اعداد و شمار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ سال ختم ہونے میں ابھی چار ماہ باقی ہیں۔ اس صورتحال نے دنیا بھر کے آئی ٹی پروفیشنلز اور ملازمین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ ملازمتوں کے مواقع تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی برطرفیوں کی سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کا تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال اور اس کی ترویج ہے۔ میٹا، مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے روایتی نظام کو جدید ترین اے آئی ٹولز پر منتقل کر رہی ہیں۔ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اخراجات کو کم کرنے کے لیے یہ اقدامات اٹھا رہی ہیں، لیکن اس کا براہ راست نقصان ان ہزاروں ملازمین کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو کئی سالوں سے ان اداروں سے وابستہ تھے۔ ماہرینِ معاشیات اور کارپوریٹ امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی انڈسٹری اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ہیومن ریسورس کے مقابلے میں آٹومیشن کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس رجحان کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سافٹ ویئر ڈویلپرز بلکہ مختلف انتظامی اور تکنیکی شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ حکومتوں اور لیبر یونینز پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس بدلتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لیں اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئے لائحہ عمل تیار کریں۔