LIVE
Loading Breaking News...

چین کی نئی میگلیو ٹرین کا رفتار کا عالمی ریکارڈ، 5.3 سیکنڈ میں 800 کلومیٹر فی گھنٹہ

News Image
چین کی ایک تجرباتی میگلیو ٹرین نے انتہائی کم فاصلے پر تیز ترین رفتار کا نیا عالمی ریکارڈ بناتے ہوئے محض 5.3 سیکنڈ میں 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر لی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی انتہائی زیادہ ایکسلریشن کی وجہ سے مسافر بردار ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔
نیکسورا نیوز کے مطابق، چین کی جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور شاندار کارنامہ سامنے آیا ہے جہاں ایک تجرباتی میگلیو ٹرین نے محض 5.3 سیکنڈ کے قلیل وقت میں 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حیرت انگیز رفتار حاصل کر کے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ گذشتہ چھ ماہ کے دوران اس نوعیت کا یہ تیسرا بڑا ریکارڈ ہے جو چینی انجینئرز اور سائنسدانوں کی انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مختصر فاصلے کے سفر میں تیز ترین رفتار کا یہ نیا عالمی ریکارڈ ریلوے اور میگلیو ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تجرباتی ٹرین اپنی انتہائی نوعیت کی ایکسلریشن اور رفتار کی وجہ سے عام مسافروں کی نقل و حمل کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی ہے۔ اس ٹرین میں سفر کے دوران پیدا ہونے والے انتہائی شدید فورسز اور دباؤ عام انسانوں کے برداشت سے باہر ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا مقصد مسافر بردار سروس فراہم کرنا نہیں ہے۔ اس کے بجائے، اس جدید نظام کو مستقبل کے دیگر سائنسی اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان ہے تاکہ تیز رفتار ذرائع نقل و حمل کے نئے افق دریافت کیے جا سکیں۔ چین میں میگلیو یعنی مقناطیسی رواداری (Magnetic Levitation) پر مبنی ٹرینوں کی ترقی پر پچھلے کئی سالوں سے تیزی سے کام جاری ہے۔ مقناطیسی طاقت کی مدد سے پٹڑی سے اوپر تیرنے والی یہ ٹرینیں زمین پر رگڑ کی قوت کو ختم کر کے انتہائی بلند رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حالیہ تجربہ نہ صرف چین کی تکنیکی برتری کو ثابت کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ مستقبل کی ٹرانسپورٹیشن اور نقل و حمل کی ٹیکنالوجیز میں سب سے آگے نکلنے کا عزم رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ماہرین چین کی اس کامیابی کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اس نوعیت کے تجربات سے مستقبل کے جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اگرچہ یہ مخصوص تجرباتی ٹرین مسافروں کے لیے نہیں ہوگی، لیکن اس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اور تکنیکی تجربہ آنے والے دنوں میں ہائی اسپیڈ ریلوے کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے، جس سے دنیا بھر کے انجینئرز استفادہ کریں گے۔