LIVE
Loading Breaking News...

چین کا اے آئی ماڈل اینتھروپک کے مائتھوس 5 کے قریب

News Image
چین کا جدید ترین مصنوعی ذہانت کا ماڈل سائبر ڈیفنس کے حالیہ امتحانات میں اینتھروپک کے مائتھوس فائیو کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کی حرکیات کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں چین کا نیا اے آئی ماڈل سائبر ڈیفنس کے امتحانات میں معروف امریکی ادارے اینتھروپک کے 'میتھوس فائیو' (Mythos 5) کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعی ذہانت کے میدان میں پایا جانے والا یہ فرق تیزی سے کم ہو رہا ہے، جو مستقبل میں عالمی سائبر سکیورٹی کی حرکیات کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت نے دنیا بھر کے تکنیکی ماہرین اور دفاعی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ سائبر ڈیفنس کے شعبے میں اس طرح کی ترقی اس بات کی غماز ہے کہ اب ایشیائی خطے میں بھی جدید ترین الگورتھمز اور سکیورٹی سسٹمز تیار کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ ماضی میں مغربی ممالک خصوصاً امریکہ کو اس شعبے میں جو تکنیکی برتری حاصل تھی، اب چینی ماڈلز اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ ان امتحانات کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے سائبر حملوں کو ناکام بنانے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو محفوظ رکھنے کے روایتی طریقوں میں انقلاب آنے والا ہے۔ یہ مسابقت نہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مابین ہے بلکہ یہ دو بڑی معیشتوں کے درمیان تکنیکی بالادستی کی جنگ کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کے اثرات عالمی پالیسیوں اور دفاعی حکمت عملیوں پر بھی مرتب ہوں گے کیونکہ ممالک اپنی ڈیجیٹل سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے مزید جدید ترین سسٹمز کی تلاش میں ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کو ایک نئے تکنیکی دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کے بغیر کسی بھی ریاست کی سائبر سکیورٹی کا تصور ممکن نہیں ہوگا۔