LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز بحری حملے اور امریکی تزویراتی اقدامات

News Image
آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملوں میں اضافے کے بعد امریکہ نے ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اپنے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری راستے پر جہازوں پر حملوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور بحری تجارت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس خطے میں ہونے والے مختلف واقعات میں تجارتی بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکرز کو نامعلوم پراجیکٹائلز اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بین الاقوامی میری ٹائم ایجنسیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں بحری آمد و رفت اب انتہائی کٹھن اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر اس بات کا الزام عائد کیا ہے کہ ان کے قومی تیل کے ادارے اے ڈی این او سی (ADNOC) سے تعلق رکھنے والے دو جہازوں کو اس خطے میں حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور دنیا بھر کی معاشی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں امریکہ کی طرف سے انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے اپنے اقتصادی اور سفارتی اقدامات میں مزید تیزی لائیں گے۔ امریکہ کا ماننا ہے کہ اس خطے میں ہونے والی حالیہ تخریب کاری کے پیچھے ایران یا اس کے حمایت یافتہ عناصر کا ہاتھ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم ترین اسٹریٹجک گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں کو بھیجا جاتا ہے۔ اگر اس آبی گزرگاہ میں سیکیورٹی کے مسائل اسی طرح برقرار رہے اور حملوں کا سلسلہ نہ روکا گیا، تو اس کے اثرات براہ راست عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہوں گے۔ دریں اثنا، برطانیہ کے میری ٹائم سیکیورٹی اداروں نے بھی تمام بحری جہازوں اور عملے کو اس علاقے سے گزرتے وقت انتہائی درجے کی محتاط رہنے اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔