World
امریکہ ایران کشیدگی: غیر معینہ مدت کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی
امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں پر غیر معینہ مدت تک بحری ناکہ بندی جاری رکھنے اور اسے معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
امریکہ نے ایران کے خلاف جارحانہ اقدام اٹھاتے ہوئے تہران کی بندرگاہوں پر غیر معینہ مدت تک بحری ناکہ بندی جاری رکھنے اور اسے معاشی طور پر مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کے لیے نئے اقدامات متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ تازہ ترین دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں حریف ممالک کے درمیان سیز فائر اور جنگ بندی کے مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں اور سفارتی سطح پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر دوڑ سکتی ہے اور پہلے سے غیر مستحکم خطے میں بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور معاشی حربہ استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بحری ناکہ بندی کے اس تسلسل کا مقصد ایران کی درآمدات اور برآمدات بالخصوص توانائی کے شعبے کو مفلوج کرنا ہے تاکہ تہران کو مذاکراتی میز پر جھکایا جا سکے۔ اسٹریٹجک ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے سخت اقدامات کے طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف ایران کی معیشت کو شدید دھچکا لگے گا بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی رس رسد اور قیمتیں بھی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب، تہران کی طرف سے بھی اس قسم کی دھمکیوں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا اصرار ہے کہ ملک اس طرح کے دباؤ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا اور اپنے دفاع اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری جوابی اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اگرچہ دونوں اطراف سے عسکری محاذ آرائی سے بچنے کی بات بھی کی جاتی ہے، تاہم زمینی حقائق اور جاری کشیدگی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ خطے میں امن کی بحالی کا راستہ تاحال انتہائی کٹھن اور غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔